پرل کانٹی نینٹل ھوٹل کی انتظامیہ نے راولپنڈی میں ایک بار پھر یونین کو ختم کرنے کی کوشش کی ھے اور مستقل مزدوروں کے لئے لاک آؤٹ کر دیا ھےجبکہ ہوٹل کو غیرمستقل کارکنان کے ذریعے چلایا جا رہا ھے ۔ پی سی راولپنڈی میں اس سے قبل گزشتہ سال بھی انتظامیہ نے غیر مستقل ملازمین کو نکال دیا تھا۔ جس پر یونین نے احتجاجی تحریک شروع کی تھی اس کے نتیجے میں یہ غیر مستقل ملازمین کام پر واپس آگئےتھے۔مگر انتظامیہ نے یونین کے مطالبات کو دل سے تسلیم نہیں کیا بلکہ وہ موقع کی تلاش میں تھی کہ یونین کے خلاف کس طرح کوئی کاروائی کی جائے۔ یکم جنوری کو یونین نے چارٹر آف ڈیمانڈ دیاجس کے بعد انتظامیہ نےیونین سے مذاکرات شروع کیے ۔ مذاکرات میں یونین پلہ بھاری رہااور وہ انتظامیہ سے بہت سے مزاکرات منوانے میں کامیاب رہی۔ تین اہم معاملات پر ابھی مذاکرات جاری تھے۔جس میں غیرمستقل ملازمین کو مستقل کرنا، بونس کی ادائیگی اور تنخواہوں میں اضافہ شامل تھا ۔ انتظامیہ نے 55 غیرمستقل ملازمین کو مستقل کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کر دی تھی جس کے بعد پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کی انتظامیہ نے محسوس کیا کہ مذاکرات کی میز پر یونین کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں لہٰذا انھوں نے دوسری چال چلی اور ہیومن ریسورس مینیجر کو تبدیل کر دیا۔ نئے ہیومن ریسورس مینیجرمزاکرات کے دوران گزشتہ میٹنگز میں طے پا جانے والے معاملات سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئےانہیں ماننے سے انکار کر دیا۔
یونین کے عہدیداران اس موقع پر جذباتی ہو گئےاور انھوں نے میٹنگ کا بائکاٹ کردیا۔ جس کے بعد ہوٹل کی انتظامیہ نے تقریباً 300 سے زائد ورکروں کا گیٹ بند کر دیا جس میں 94 مستقل ملازمین بھی شامل تھے۔ یونین نے انتظامیہ کو ہڑتال کا نوٹس دے دیا۔ مگر انتظامیہ نے اپنا اثرورسوخ استعمال کر کے اس ہڑتال نوٹس پراین آئی آر سی کا حکم امتناعی حاصل کر لیا۔ دوسری جانب انتطامیہ نے تقریباً 120 کارکنان کے خلاف ھوٹل میں آگ لگانے کا مقدمہ درج کرادیا ۔ یونین کے سابقہ جنرل سیکریٹری کو اس سلسلہ میں گرفتار بھی کیا گیا مگر بعد میں ضمانت پر انکی رہائی عمل میں آئی۔ انتظامیہ نے ورکروں کے گھروں پر شوکاز نوٹس اور انکوائری نوٹس روآنہ کرنا شروع کر دیئے۔ یونین نے انتظامیہ کے اس رویے کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔ احتجاجی پروگرام لیاقت باغ کے جلسہ سے شروع ہواجس کے بعد شہر کے مختلف مقامات پراور اسلام آباد میں پی ایس ایل کے دفتر پر مظاہرے کیے گئے۔ ضلعی انتظامیہ نے یونین اور انتظامیہ کے مابین مذاکرات کرانے کی کوشش کی لیکن یہ کوشش اس وجہ سے ناکام ہو گئی کہ ضلعی انتظامیہ ہوٹل کی انتظامیہ کی طرف داری کرتی رہی۔
2 جون، ورکروں نے شاہراہِ دستورپر احتجاجی کیمپ آویزاں کر دیا اور بھوک ہڑتال شروع کر دی۔ چند دن بعد دس سے زائد محنت کش اسپتال پہنچ گئےجس کے بعد وزیرِ محنت خورشید شاہ اور وزیرِ مملکت برائے داخلہ تسنیم قریشی کی مداخلت پر ورکروں اور یونین کے عہدیداروںنے بھوک ہڑتال تو ختم کر دی مگر احتجاجی کیمپ ابھی تک جاری ہے۔ ملک بھر سے ٹریڈ یونین، سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کر کے پی سی راولپنڈی کے محنت کشوں کواپنی حمایت کا یقین دلایا ہے۔
15 جون کو محنت کشوں کی بڑی تعداد شاہراہِ دستورپرجمع ہو گئی جس پر پولیس طلب کر لی گئی۔اور پولیس افسران نے اس صورتحال سے حکامِ بالا کو آگاہ کر دیامگر اس پر کوئی نوٹس نہیں لیا گیاجبکہ میڈیا نے بھی اس جدو جہد کے بارے میں کوئی خبر شائع نہیں کی ۔ یونین کے عہدیدروں کے مطابق نئے ایچ آر منیجر کرنل (ر)ذولفقار قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوھدری نثار کے بہنوئی ھیں اس لیے پنجاب حکومت کا کوئی ادارہ مزدوروں کی حمایت میں کوئی قدم اٹھانے سے قاصر ھے، یونین کے صدر ملک شیر احمد اور کراچی پی سی یونین کے جنرل سیکریٹری غلام محبوب کے ساتھہ سینکڑوں محنت کش اس احتجاجی کیمپ میں مو جود ھیں اور انھوں نے فیصلہ کیا ھے کہ ان کے مطالبات منظور ھونے تک یہ احتجاج جاری رھے گا۔


0 Responses to “پی سی پنڈی احتجاجی کیمپ 2 جون سے جاری ہے”