آئی یو ایف کے تعاون سے مورخہ 7 جون 2010کو ملتان میں فوڈفیکٹریوں میں کام کرنے والی خواتین میں کام کی جگہ سے متعلق شعور اور آگاہی کے لئے ایک روزہ< تعلیمی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا ۔ اس تعلیمی ورکشاپ میں 30 خواتین نے شرکت کی ۔ان خواتین میں تقریباً 10 خواتین بسکٹ فیکٹریوں سے ،5 خواتین لڈو بنانے والی فیکٹریوں 2 خواتین ہوٹل سے تعلق رکھتی تھیں ۔آئی یو ایف سے محمد عثمان اور صائمہ قریشی ،ایشیاء پیسیفک ریجن کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ہدایت گرین فیلڈ ، وومن ورکرز فیڈریشن کی چیئر پرسن محترمہ مہک بٹ اور مہمانِ خصوصی میں صوبہ پنجاب کے محکمہ محنت کے ڈپٹی ڈائریکٹر جناب احمد خان لغاری صاحب نے بھی شرکت کی۔
ورکشاپ کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآن پاک کی آیاتِ مبارکہ سے ہوا اور اس کے بعدہدیہ نعت رسولِ مقبول پیش کی گئی ۔تقریب میں شامل شرکاء اور ورکشاپ کے تعارف کے ساتھ ساتھ وومن ورکرز فیڈریشن ،نیشنل فیڈریشن آف فوڈ ، بیوریجز اینڈ ٹوبیکو ورکرز اور آئی یو ایف کا رتعارف وومن ورکرز فیڈریشن کی چیئر پرسن محترمہ مہک بٹ نے کرایا۔کام کی جگہ پر کارکنا ن کے کے قانونی حقوق و مراعات کے حوالے سے آئی یو ایف کے آفیسر محمد عثمان نے سوشل سیکیورٹی ، (بڑھاپے اور معذوری کی پنشن ) کم از کم اُجرت ،چھٹیاں اور اوؤر ٹائم ئم ، میٹرینٹی کے فوائد اور جنسی ہراساں کے خلاف تفصیلاً روشنی ڈالی ۔ ڈپٹی ڈائریکٹر جناب احمد خان لغاری صاحب نے ورکرز ویلفیئر بورڈ ( جہیز گرانٹ ، سلائی مشینیں ، مکان اور فلیٹ) کے حولے سے خواتین ورکرز کو تفصیلات فراہم کیں۔خواتین ورکرز نے اس ورکشاپ میں بہت دلچسپی ظاہر کی انھوں نے کام کی جگہ پر قانونی حقوق حاصل کرنے کے حوالے ممکنہ سوالات بھی کیے، جس ان میں پیدا ہونے والے شعور کے بارے میںپتا چلا اور یہ بھی کہ اس تربیت میں یہ خواتین ذہنی طور پر کس حد تک شریک ہیں۔ ایشیاء پیسیفک ریجن کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ہدایت گرین فیلڈ نے ان خواتین ورکرز کو کام کی جگہ کے حوالے سے تجاویز پیش کیں۔
اس کے بعد ان خواتین کارکنان نے کام کی جگہ پر پیش آنے والے مسائل کے بارے میںفرداً فرداً آگاہ کیا۔ ان میں جو مشترکہ مسائل سامنے آئے وہ یہ ہیں۔ان مسائل میں :
٭ تنخواہ کا مسئلہ سب سے بڑا ہے کہ 12 سے 16 گھنٹے کی ڈیوٹی دینے کے بعد کم از کم اُجرت 2500 دی جاتی ہے اور اگر آپ کو کام کرتے ہوئے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے تو تقریباً 3500 روپے تک اُجرت مل جاتی ہے جبکہ قانون کے مطابق کم از کم اُجرت کا معیار 7000 روپے ہے۔
٭ عدم مساوات کا مسئلہ ہے کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین ورکرز کی تنخواہیں بہت کم ہیں ۔جبکہ کام تو
٭ کام کی زیادتی کامسئلہ سامنے آیا کہ چار افراد کا کام ایک ورکر سے کروایا جاتا ہے اور اس طرح جس تیزی سے 20 – 20 پیکٹ اُٹھا کر دوسری جگہ رکھنا پڑتے ہیں ، ایک سیکنڈ کے لئے بھی آپ نہیں رُک سکتے و رنہ کام کا ڈھیر لگ جاتا ہے۔ کام بہت سخت ہے کہ مشین کی طرح کام کرایا جاتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ مشین بن گئے ہیں۔ ایک خاتون نے کہا کہ وہ اپنے جوتے تک اُتار دیتی ہیںتا کہ تیزی سے حرکت کر سکیں ۔
٭ اوقاتِ کار بہت زیادہ ہیں 12 سے 16 گھنٹے کی ڈیوٹی دینی پڑتی ہے جبکہ قانونی طور پر کام کے اوقات تقریباً 8 گھنٹے ہیں اور کبھی اوور ٹائم کی بھی ادائیگی نہیں کی جاتی ۔
٭ رات کی شفٹ میں کام کرایا جاتا ہے ، شام 6 بجے سے صبح 6 بجے کی ڈیوٹی ہوتی ہے جبکہ قانونی طور پر خواتین سے رات کی شفٹ میں کام نہیں کرایاجا سکتا۔
٭ چھٹی کا مسئلہ ہو جاتا ہے ، کبھی بیماری کی صورت میں یا کوئی ایمرجنسی کی صورت میں چھٹی کر لیں تو نوکری سے برخاست کرنے کی دھمکیا ں دی جاتی ہیں ، اور یہ کہا جاتا ہے کہ اگر بیمار ہو تو کہیں اور نوکری کر لیں۔
٭ علاج معا لجہ کی سہولت میسرنہیں ہے۔تنخواہیں کم ہوں اور دوسری مراعات حاصل ہوں تو کافی حد تک سہولت ہو جاتی ہے کیونکہ مہنگائی کے اس دور میںاتنی کم تنخواہ کے ساتھ روزمرہ کی ضروریات کو ہی پورا کرنا مشکل ہوتا ہے اس پر اگر بیمار ہو جائیں توپورا نظام خراب ہو جاتا ہے۔
٭ ٹرانسپور ٹ کی سہولت نہیں ہے۔ فیکٹری آنے اور جانے کا کرایہ بہت ہو تا ہے۔
٭ کام کرنے کے دوران اگر پیاس لگے تو کوئی وقفہ نہیں ہوتا صرف آدھے گھنٹے کا لنچ بریک اور دو مرتبہ پانچ پانچ منٹ کا پانی پینے کے وقفہ کے علاوہ کوئی اضافی وقفہ نہیں ہے۔
٭ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے، زیادہ عمر والی خواتین کو انتظامیہ کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ اب آپ کام کرنا چھوڑ دیں کیونکہ اب ان کے کام کا معیار وہ نہیں رہا کہ جو نوجوان خواتین ورکرز کا ہے،جو خواتین تیار ہو کر میک اپ کر کے نہیں آتیں انھیں کہا جاتا ہے کہ آپ اس طرح تیار ہو کر آیا کریں ( اس سلسلے میں انتظامیہ ان ہی کے ڈپارٹمنٹ میں کام کرنے والی خواتین کی مثال پیش کرتے ہیںجو تیار ہو کر آتی ہیں )
٭ شیر خوار بچوں کے لئے کوئی الگ سے جگہ نہیں ہے، وہ خواتین ورکرز جن کے بچے چھوٹے ہیں اور گھر میں ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں تو اس صورت میں انھیں اپنے بچوں کو بھی مجبوراً فیکٹری لے کر جانا پڑتا ہے ، جس پر انتظامیہ بجائے ان کے لئے کوئی مناسب انتظام کرے اُلٹا بدتمیزی کری ہے۔
ان تمام مسائل کا تجزیہ کرنے اور ان کا حل تلاش کرنے کے لئے ان خواتین کارکنان کے پانچ گروپ بنائے اور انھیں آپس میں مل کر مسائل حل کرنے کی کی جانب مائل کیا گیا۔ ان خواتین ورکرز کی جانب سے جو تجاویز سامنے آئیں وہ یہ ہیں :
ملازمت حاصل کرنے کے بعد آجر سے باقاعدہ ایک معاہدہ کریں تاکہ ملازمت سے نکالے جانے کے خوف سے چھٹکارا حاصل ہو جائے اور بلا خوف و خطر کام کر سکیں ۔
کام کی نوعیت کے متعلق معلومات ہونی چاہئے ۔آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ آپ جس جگہ کام شروع کرنے والے ہیں وہاں آپ کو کام کیا کرنا ہے تاکہ آپ اضافی کام اور اوور ٹائم کی اُجرت علیحدہ سے وصول کر سکیں ۔
کام کی جگہ پر جو بھی مراعات ہوتی ہیں وہ ہمارا قانونی حق ہیں اور اس حق کو حاصل کرنے کے لئے مشترکہ طور پر انتظامیہ سے گفت و شنید کرنی چاہئے تاکہ انتظامیہ کو بھی معلوم ہو کہ ہم بھی شعور رکھتے ہیں۔
کبھی کوئی مسئلہ ہو تو تمام خواتین کو مل جُل کر اپنے مسئلہ کو انتظامیہ کے سامنے لانا چاہئے اور اس کے حل کے لئے مسلسل کوشاں رہنا چاہئے۔
کہ تمام خواتین متحد ہو کر ہی اپنے مسائل کوحل کروا سکتی ہیں ۔
ایسی تمام خواتین جو آپس میں اختلاف رکھتی ہیں ( مثال کے طور پر زیادہ عمر والی خواتین ، کم عمر ورکر سے خائف ہے، جو خواتین تیار ہو کر میک اپ کر کے نہیں آتیںوہ میک اپ کر کے آنے والی ورکر پر خار رکھتی ہے وغیرہ وغیرہ) انھیں اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ آپس کے اختلافات کو مل کر ختم کر لیں کیونکہ وہ سب خواتین کام کی جگہ پرتقریباً ایک جیسے مسائل کا شکار ہیں ۔
ہمیں اپنے مسائل کے حل کے لئے سب سے پہلے متعلقہ اداروں اور تنظیموں کے تعاون کی بھی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں ہمیں ان اداروں کے ساتھ رابطہ کرنا چاہئے تاکہ ہمارے مسائل فیکٹری سے نکل کر دنیا کے سامنے آئیں ۔
ہمیں متحد ہونا ہے اور اس کے بعد سب سے بڑا کام یہ ہونا چاہے کہ کام کی جگہ پر ایک یونین بنانی چاہئے کہ ہماری فیکٹریوں میں کوئی یونین نہیں ہے کہ جو باقاعدہ انتظامیہ تک ہماری بات پہنچائے اور ہماری نمائندگی کرے۔کیونکہ ہم اگر اپنا کوئی مسئلہ انتظامیہ تک لے جانا بھی چاہیں تو سُپر وائزر ایسا نہیں کرنے دیتا۔یونین کی موجودگی سے بہت فرق پڑے گا۔
ورکشاپ کے آخر میں خواتین ورکرز کی شرکت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آئی یو ایف کی نمائندہ صائمہ قریشی نے کہا کہ ان تمام مسائل کا حل آپ لوگوں کے ہمت و حوصلہ کرنے میں اور متحد ہونے میں پنہاں ہے ۔ آپ با حوصلہ خواتین ہیں کہ آپ اپنی گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ معاشی ذمہ داریوں سے بھی بہ احسن و خوبی نمٹ رہی ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ آپ ان فیکٹریوں میں کام کرنے والی دوسری خواتین کو بھی یہ تمام معلومات فراہم کریں تاکہ آپ کی طاقت میں اضافہ ہو اور اس کے بعد جب آپ مشترکہ طور پر فیکٹری مالکان اور انتظامیہ سے گفت و شنید کریں گی تو کوئی وجہ نہیں کہ آپ کی بات ان سُنی کر دی جائے۔


0 Responses to “ملتان میں خواتین کی ایک روزہ تعلیمی ورکشاپ- 7 جون 2010”