پرل کانٹی نینٹل ہوٹل راولپنڈی کے ہیومن ریسورس مینیجرکرنل (ریٹائرڈ) ذوالفقارنے مزدور دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے مذاکراتی عمل کوثبوتاژ کر دیا اورمورخہ 15 مئی کو پرل کانٹی نینٹل ہوٹل راولپنڈی کی انتظامیہ نے غیر قانونی طور پر تمام مستقل ملازمین کو باہر دھکیل دیا۔ یہ ورکر مطالبہ کر رہے تھے کہ یونین کے ساتھ ایگریمنٹ جلد از جلد کیا جائے۔ چارٹر آف ڈیمانڈ یکم جنوری کو انتظامیہ کو دیا گیا تھا جس میں تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کے ساتھ بونس کی ادائیگی اور غیر مستقل کارکنان کو مستقل کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ انتظامیہ کے ساتھ یونین کے مذاکراتی عمل کے کئی دور ہوئے جس میں یونین کے صدر ملک شیر احمد اور جنرل سیکریٹری اعجاز حسین بھی شامل تھےیہ مذاکرات بہت پُر امن ماحول میں ہو رہے تھےاور انتظامیہ نے یونین کے ساتھ اس بات پر اتفاق کر لیا تھا کہ 55 غیر مستقل ملازمین کو مستقل کر دیا جائے گا جبکہ ہر ماہ 2 ملازمین کو مستقل کرنے کا عمل شرع کیا جائے گا اور کسی بھی مستقل ورکر کی وفات یا ریٹائر منٹ کے بعد اس کے لواحقین کو نوکری میں فوقیت دی جائے گی۔ یونین ان مذاکرات سے مطمئین تھی جبکہ دیگر معاملات پر بات چیت جاری تھی۔ کمپنی کی انتظامیہ نے اس دوران ہیومن ریسورس مینیجرکو تبدیل کر دیا۔ نئے ہیومن ریسورس مینیجرجو کہ قائد حزبِ اختلاف چودھری نثار احمد کے بہنوئی ہیں انہوں نےمورخہ 15 مئی کومیٹنگ کے دوران اعلان کیا کہ اس سے پہلے جو کچھ طے ہوا ہے اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور یہ کہ کمپنی کسی ملازم کو مستقل نہیں کرے گی۔ یونین نے اس پر شدید احتجاج کیا جس کے بعد ہوٹل کے ورکرز بھی اس احتجاج میں شامل ہو گئے۔
ہیومن ریسورس مینیجرنے اس موقع پرجنرل سیکریٹری کے ساتھ بد تمیزی کی جس کی وجہ سے جنرل سیکریٹری کو دل کا دورہ پڑ گیا اور انہیں فوراً اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا گیا۔ جس دوران جنرل سیکریٹری کو اسپتال منتقل کیا گیا ا س دوران یونین کے سینئر عہدیداران ان کے ساتھ تھےجبکہ ہوٹل انتظامیہ نے اس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئےتمام مستقل ملازمین کو ہوٹل سے باہر دھکیل دیااور ان سے کہا کہ صرف وہی ورکر ڈیوٹی پر آسکتا ہے جو ہمیں معافی نامہ تحریر کر کے دے گا اور اس بات کی ضمانت دے گا کہ وہ یونین سے علحیدگی اختیار کر رہے ہیں۔ انتظامیہ نے فوری طور پرمیریٹ ہوٹل اور بھوربن پی سی ہوٹل سے غیر مستقل ورکرز منگوالیےنیز دیگرسُپر وائزر اسٹاف کے ذریعے ہوٹل کا بزنس چلا رہی ہے۔ یونین کے صدر ملک شیر احمد اوردیگر عہدیداران نے اس گیر قانونی لاک آؤٹ پر شدید احتجاج کرتے ہوئےحکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامیہ کے اس غیر قانونی عمل پر سخت اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ یونین پُر امن مذاکرت پر یقین رکھتی ہےاور ہم گذشتہ پانچ ماہ سے مذاکراتی عمل جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن ہوٹل کی اننتظامیہ نے دھونس اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکراتی عمل کو ژثبوتاژ کیا ہےاور جو معاملات طے ہوگئے تھے ان کو بھی ماننے سے انکار کر دیا ہےجو اجتماعی سوداکاری کی شدید خلاف ورزی ہے اور ہوٹل انتظامیہ نے اجتماعی سوداکاری کے عمل کو ختم کر کے محنت کشو کی حق تلفی کی ہے۔ یونین نے لیاقت باغ راولپنڈی میں جنرل باڈی کا اجلاس منعقد کر کے اس بات کا عہد کیا ہے کہ تمام ورکرز انتظامیہ کی ہٹ دھرمی پر احتجاج کریں گےاور اجتماعی سوداکاری کے حق میں اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

0 Responses to “پرل کانٹینینٹل راولپنڈی ہوٹل انتظامیہ کی مزدور دشنی”