صنعتی تعلقات کا قانون فوری نافذ کیا جائے۔ زرعی کارکنان کو ٹریڈ یونین سازی کا حق ملنا چاہیے

مورخہ ۱۷ مئی کو پاکستان شوگر ورکرز فیڈریشن، ہوٹل ورکرز فیڈریشن اور نیشنل فیڈریشن ٓاف فوڈ، بیوریجز اینڈ ٹو بیکو ورکرز نے مشترکہ پریس کانفرنس منعقد کی جس سے بشیر احمد، غلام محبوب، خائستہ رحمان اور قمرالحسن نے خطاب کیا۔

ہم ایک اہم مسئلے کی جانب توجہ مبذول کروانا چاہتے ہیں کہ صنعتی تعلقات کا قانون مورخہ 30 اپریل کو ختم ہو چکا ہے اور اس قانون کے تحت قائم تمام ادارے غیر فعال ہو چکے ہیں جس کے باعث ملک بھر میں لیبر کورٹس ، لیبر اپیلیٹ ٹریبونلز ، رجسٹرار آف ٹریڈ یونینز، ٹریڈ یونینز ، اجتماعی سوداکار ایجینٹس(سی بی اے) این آئی آر سی و دیگر ادارے غیر فعال ہوگئے ہیں ۔ ملک بھر میں ہزاروں کیس جو لیبر کورٹس میں پہلے ہی تاخیر اور سست روی کا شکار تھے مزید تاخیر کا شکار ہوگئے اور محنت کشوں کو جو سستے اور فوری انصاف کے خواب دیکھتے ہیں مزید التواء شدہ مقدموں کا سامنا ہے۔

یکم مئی کو جب وزیر اعظم صاحب اپنی حکومت کی لیبر پالیسی کا اعلان کر رہے تھے تو یقیناً انہیں اندازہ ہو گا کہ صنعتی تعلقات کا قانون اس سے ایک دن قبل اپنی مدت پوری کر چکا تھا۔لیکن اس سے بھی پہلے جب پوری قوم آئین میں اٹھارویں ترمیم کی خوشیاں منا رہی تھی قانون ساز اداروں میں موجود عوامی نمائندوں کو شاید اس بات کا علم نہیں تھا کہ اس ترمیم کے بعد مزدوروں کے معاملات صوبائی حکومتوں کے پاس ہونگے اور اس ضمن میں قانون سازی صوبائی اسمبلیاں کیا کریں گی اور یہ کہ چند روز بعدجب صنعتی تعلقات کا قانون ختم ہو جائے گا توپھراس خلا کو کس طرح پُر کیا جائے گا ۔

آج صورتحال یہ ہے کہ آئی آر اے 2008 ختم ہو ئے تین ہفتے گزر چکے ہیں اور اس ملک میں قانوناً کوئی ٹریڈ یونین موثر نہیں ہے نہ کوئی سی بی اے اپنی انتظامیہ کو ڈیمانڈ دے سکتی ہے اور نہ ہی اس سے مذاکرات کر سکتی ہے،اس قانون کے تحت قائم ادارے مثلاً ورکس کونسل ، شاپ اسٹیورڈز ، جوائنٹ مینجمنٹ بورڈ وغیرہ سب غیر فعال ہو چکے ہیں ۔ صنعتی تعلقات کا کمیشن کام نہیں کر رہا ۔پہلے کی طرح معاملہ آسان اور سہل نہیں رہا کہ صدر مملکت ایک آرڈیننس کے ذریعے کوئی قانون نافذ کر دیں ۔ اب اگر آرڈیننس کے ذریعے قانون نافذ کرنے کی ضرورت ہے تو پانچ گورنرزپانچ آرڈیننس نافذ کریں گے۔ ضروری نہیں کہ مرکز سے بھیجا گیا آرڈیننس تمام گورنرز من و عن نافذ کر دیں اور پھر پانچوں صوبائی اسمبلیاں ان پر قانون سازی کریں گی ۔ کچھ لوگ اٹھارویں ترمیم کے بعد آئین کی شق اے اے 270  کی تشریح اس طرح کر رہے ہیں کہ جب  اٹھارویں ترمیم پاس ہو گی تو اس وقت تمام قوانین من و عن صوبائی قوانین بن جائیں گے۔ اور ان میں اس وقت تک کوئی تبدیلی نہیں ہو گی جب تک مجاز ادارے (صوبائی اسمبلیاں) ان میں ترمیم یا ان کی تنسیخ نہ کریں ، ہمارے خیال میں آئی آر اے 2008کے لئے یہ تشریح صحیح  نہیں ہے کیونکہ اگر یہ قانون صوبائی بن چکا تھا تب بھی اس میں تحریر تھا کہ اس کی مدت 30 اپریل کو پوری ہو جائے گی اور اس کے بعد صوبائی اسمبلیوں سے مزید منظوری کی ضرورت تھی ۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کو اس صورتحال کا فوری نوٹس لینا چاہئے وگرنہ لوگ عدالتوں میں چلے جائیں گے اور عدالتیں اس معاملے کی تشریح کریں گی ۔ غیر ضروری تاخیر سے معاملات مزیدپیچیدہ ہو جائیں گے اور ان کا نقصان محنت کشوں کو اُٹھانا پڑے گا۔

حکومت نے یکم مئی کو لیبر پالیسی کا بھی اعلان کر دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیںکہ مرکزی سطح سے لیبر پالیسی کا  اعلان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ حکومت نے محنت کشوں کے معاملات میں نہ صرف اپنا وژن دیا ہے بلکہ بہت سے معاملات پر اپنی حکومت کا موقف واضح کر دیا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے ہر دور میں مزدوروں کے لیے کچھ نہ کچھ اعلا نات ہوئے ،اس لیے مزدوروں کو اس حکومت سے بہت سی توقعات وابستہ رہی ہیں ،جن میں کچھ پوری بھی ہوئی ہیں، اس لیبر پالیسی میں اسمارٹ کارڈز، مزدوروں کی مالی معاونت کے لئے گرانٹ وغیرہ بہت اچھے اقدامات ہیں ۔ موجودہ حکومت نے اس سے قبل آئی آر او 2002 جبری برطرفی کا صدارتی رڈیننس کا خاتمہ کر کے دیرینہ مطالبہ کو نہ صرف پورا کیا بلکہ مختلف اداروں میں کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کر کے ایک اچھی مثال قائم کی ۔لیکن زرعی کارکنان ، ماہی گیروں انفارمل شعبہ کے محنت کشوں تک مزدورقوانین کا اطلاق کی پالیسی نہ بنا کر کروڑوں محنت کشوں کو فوائد سے دور کر دیا ہے ۔نہ صرف ملک کی ٹریڈ یونین تنظیموں بلکہ آجران نے بھی حکومت کو یہ سفارشات دی ہیں کہ زرعی کارکنان کو ٹریڈ یونین بنانے کا حق ملنا چاہئے۔ حکومت ایک طرف تو وعدہ کرتی ہے کہ تمام مزدورقوانین آئی ایل او کے کنونشنز کے مطابق ہوں گے مگر دوسری جانب آئی ایل او کنونشن نمبر 11 کی توثیق کے باوجود زرعی مزدورں کو حق انجمنِ سازی نہیں دیا جا رہا ۔ آئین پاکستان میں تحریر ہے کہ کوئی قانون امتیازی نہیں ہو گا اور تمام لوگوں کے حقوق برابر ہیں مگر ماہی گیروں ،زرعی مزدورں اور انفارمل شعبہ کے محنت کش ان مراعات اور حقوق سے محروم ہیں جو فارمل سیکٹر کے محنت کشوں کو حاصل ہیں ۔

2008-2009 کے معاشی سروے کے مطابق ملک کی کل لیبر فورس کا 45 فیصد ایگریکلچر،ماہی گیری اور لائیو اسٹاک سے تعلق رکھتی ہے جبکہ مینو فیکچرنگ میں 13 فیصد مزدور کام کرتے ہیں،کنسٹرکشن انڈسٹری سے 6.6 فیصد،ٹریڈنگ میں سے 14.7 فیصدجبکہ ٹرانسپورٹ سے 5 فیصد محنت کش وابستہ ہیں۔ اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو ملک کی اکژیت محنت کشوں کے لیے لیبر پالسی میں کچھ خاص مراعات نہیں ہے۔ باوجود اس کے کہ حکومت اقرار کرتی ہے کہ ایگریکلچر سیکٹر میں مزدور قوانین کا اطلاق نہ ہونے کے باعث اس کا استحصال ہو رہا ہے ۔ حکومت نے ورک مین کمپنسیشن ایکٹ 1923 کا ایگری کلچر کے شعبے میں اطلاق کا عندیہ دیا ہے جو کہ نا قابل قبول ہے اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت میں جاگیرداروں کی لابی کس قدر مضبوط اور طاقتور ہے جو زرعی مزدوروں کو اپنا غلام بنا کر رکھنا چاہتی ہے۔

دنیا بھر میں سیا حت کا شعبہ ملکی معاشیات میں اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں یہ شعبہ بد امنی،دھشت گردھی اور دیگر عوامل کے باعث تیزی سے زوال پذیر ہے۔ہوٹل ریسٹورانٹس اور کیٹرنگ کے شعبے میں کام کرنے والے محنت کش بنیادی حقوق سے محروم ہیں، ان کارکنان کے لیے کوئی اوقات کار نہیں ہے،کم از کم اجرت سے بھی یہ محروم ہیں اور ماسوائے چند بڑے ہوٹلوں کے دیگر تمام ہوٹل اور ریسٹورانٹس میں کارکنوں کو تنخواہ تک نہیں دی جاتی وہ صرف کمیشن پر کام کرتے ہیں۔

شوگر کی صنعت ملک کی ایک اہم ایگرو بیسڈ صنعت ہے، ہمارے ملک میں یہ صلاحیت ہے کہ نا صرف ملک کے لیے بلکہ ایکسپورٹ کے لیے بھی شکر بنائی جا سکے لیکن جاگیرداروں ،صنعت کاروں اور ٹریڈروں کے گٹھ جوڑ کے باعث اور زیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے محنت کشوں کا استحصال عام ہے، یہ صنعت سیزنل صنعت ہے مگر سیزنل مزدوروں کے لیے قوانین میں خاص استثناً نہیں ہے،ٹھکیداروی نطام عروج پر ہے،ضرورت ہے کہ سوشل سیکورٹی کے ذریعے ان محنت کشوں کو سیزن کے بعد بھی علاج معالجہ کی سہولت ملتی رہے،ای او بی آئی میں پینشن کے لیے 15 سال کے بجائے15 سیزن کام کی شرط ہو تا کہ یہ محنت کش پینشن کے حق دار بن سکیں۔

لہذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ

1 :۔ ۔جلد از جلد تما م صوبوں میں صنعتی تعلقات کے قانون کا اطلاق کیا جائے

2 :۔ ۔لیبر پالیسی میں ٹھکیداری نظام کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے ،لہذا حکومت ٹھکیداری نظام کو ختم کرنے کا اعلان کرے۔

3 :۔ ۔ہوٹلز،ریسٹورانٹس ،شوگر ملز اور فوڈ بیوریجزسمیت تمام صنعتوں میں مزدور قوانین کے اطلاق کو لازم بنایا جائے۔

4 :۔ سیزنل مزدوروں کو ای او بی آئی ،پینشن کے لیے 15 سیزن لازم کیے جائیںاورسیزنل مزدورں کو سوشل سیکورٹی کی مراعات سیزن ختم ہونے کے بعد بھی دی جائیں۔

5 ۔۔زرعی مزدوروں،انفارمل سیکٹراور گھریلو ملازم پر تمام لیبر قوانین کا اطلاق بلا امتیاز کیا جائے۔

6:۔ ۔صوبائی سطح پر فوری طور پر سہ فریقی کمیٹیا ں بنائی جائیں تا کہ مزدوروں کے معاملات پر قوانین میں فوری تبدیلیاں اور ان پر عمل درآمد کی حکمت عملی وضع کی جا سکے۔

0 Responses to “صنعتی تعلقات کا قانون فوری نافذ کیا جائے۔ زرعی کارکنان کو ٹریڈ یونین سازی کا حق ملنا چاہیے”


Comments are currently closed.