ڈریم ورلڈ فیملی ریزورٹ یونین کا احتجاجی مظاہرہ

پاکستان ہوٹلز، ریسٹورانٹس،کلبس،ٹورزم ،کیٹرنگ اینڈ الائیڈ ورکرز فیڈریشن کی جانب سے ڈریم ورلڈ اینڈ فیملی ریزورٹ کے محنت کشوں پر انتظامیہ کی جانب سے روا رکھی جانے والی زیادتیوں کے خلاف ڈریم ورلڈ کے ہیڈ آفس پر مظاہرہ کیا گیا ۔ اس مظاہرے میں کراچی کے ہوٹلز اور کلب میں کام کرنے والے محنت کشوں کے علاوہ دیگر ٹریڈ یونینز، این جی اوز اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے کارکنان نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ڈریم ورلڈ فیملی ریزورٹ کے مزدوروں کی حمایت میں پلے کارڈ اور بینر اٹھا رکھے تھے،اس موقع پر مزدور رہنمائوں نے اپنے اپنے خطاب میں ڈریم ورلڈ کی انتظامیہ کے مزدور دشمن رویہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ڈریم ورلڈ فیملی ریزورٹ آسودہ حال لوگوں کی تفریح کا مقام ہے لیکن یہاں کام کرنے والے محنت کش بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں،تفریح کی غرض سے آنے والے معزز مہمانوں کی خدمت کرنے والے نان شبینہ کو محتاج ہیں۔

ڈریم ورلڈ فیملی ریزورٹ میں 700 سے زائد محنت کش شب و روز تفریح کے لیے آنے والے آسودہ حال لوگوں کی خدمت میں مصروف ہیں،لیکن یہی محنت کش اپنے بنیادی حقوق سے محروم ڈریم ورلڈ فیملی ریزورٹ کی انتظامیہ کے ہاتھوں غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ان محنت کشوں سے خلاف قانون بارہ بارہ گھنٹے کام لیا جاتا ہے اور قانون کے مطابق کم از کم تنخواہ 6 ہزار ادا نہیں کی جاتی اور دیگر لیبر قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ڈریم ورلڈ فیملی ریزورٹ میں کام کرنے والے محنت کشوں کو نہ تو سوشل سیکورٹی کے کارڈ مہیا کیے جاتے ہیں اور نہ ہی انہیں ای او بی آئی کے کارڈ مہیا کیے گئے ، ان کارڈ زکی عدم موجودگی کے باعث یہ غریب محنت کش نہ تو اپنا علاج معالجہ کرواسکتے ہیں اور نہ ہی بڑھاپے کی پینشن کے حقدار ہو سکتے ہیں۔ڈریم ورلڈ فیملی ریزورٹ کے محنت کشوں نے اپنے جائز قانونی حقوق کے حصول کے لیے اپنا یونین سازی کا قانونی حق استعمال کرتی ہوئے یونین بنام پیپلز ورکرز یونین رجسٹریشن نمبر476 بنائی تویونین کے عہدیداروں سمیت سر گرم کارکنان کو این آئی آر سی کے اسٹے آڈر کے با وجود ملازمت سے بر طرف کر دیا گیا اور کچھ عہدیداروں اور کارکنان کا زبانی گیٹ بند کر دیا گیا۔ان غریب محنت کشوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیااوران غریب محنت کشوں کو پولیس اور مقامی با اثر افراد کے ذریعے ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔مزدور رہنماوں نے مطالبہ کیا کہ ڈریم ورلڈ میں لیبر قوانین کی خلاف ورزی بند کی جائے، نکالے گئے مزدوروں کو ملازمت پر بحال کیا جائے اور ورکرز کا اجتماعی سودا کاری کا حق تسلیم کرتے ہوئے مزدوروں کی نمائندہ یونین پیپلز ورکرز یونین سے مذاکرات شروع کیے جائیں۔

0 Responses to “ڈریم ورلڈ فیملی ریزورٹ یونین کا احتجاجی مظاہرہ”


Comments are currently closed.