چاروں جانب سے ٹریڈ یونینز فرنچ بیسڈ اکارگروپ سے مطالبہ کر چکی ہیں کہ وہ فوراً بین الا اقوامی یونین کے حقوق پر دوبارہ گفت و شنید شروع کرے ان اغراض و مقاصد پر جو اس نے 1995 میں آئی یو ایف کے ساتھہ کیا تھا۔ یہ مطالبہ آئی یو ایف کی سالانہ ھونے والی عالمگیر میٹنگ میں شرکت کرنے والی ھوسپیٹیلٹی ، ٹوررزم اور کیٹرنگ سیکٹرکی ممبر یونینز کی جانب سے کیا گیا جو کہ 17-18 مئی میں انقرہ میں منعقد ھوئی ۔ اکار کی برانڈز میں سوفیٹیل، پُلمین،میگ گیلری،نووٹیل،مرکری،سوئٹ ھوٹل ، ایبیس، تمام مصالحے،ایٹیپ ھو ٹل / فارمولا ون اور موٹیل سکس۔
Monthly Archive for May, 2010
پرل کانٹی نینٹل ہوٹل راولپنڈی کے ہیومن ریسورس مینیجرکرنل (ریٹائرڈ) ذوالفقارنے مزدور دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے مذاکراتی عمل کوثبوتاژ کر دیا اورمورخہ 15 مئی کو پرل کانٹی نینٹل ہوٹل راولپنڈی کی انتظامیہ نے غیر قانونی طور پر تمام مستقل ملازمین کو باہر دھکیل دیا۔ یہ ورکر مطالبہ کر رہے تھے کہ یونین کے ساتھ ایگریمنٹ جلد از جلد کیا جائے۔ چارٹر آف ڈیمانڈ یکم جنوری کو انتظامیہ کو دیا گیا تھا جس میں تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کے ساتھ بونس کی ادائیگی اور غیر مستقل کارکنان کو مستقل کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ انتظامیہ کے ساتھ یونین کے مذاکراتی عمل کے کئی دور ہوئے جس میں یونین کے صدر ملک شیر احمد اور جنرل سیکریٹری اعجاز حسین بھی شامل تھےیہ مذاکرات بہت پُر امن ماحول میں ہو رہے تھےاور انتظامیہ نے یونین کے ساتھ اس بات پر اتفاق کر لیا تھا کہ 55 غیر مستقل ملازمین کو مستقل کر دیا جائے گا جبکہ ہر ماہ 2 ملازمین کو مستقل کرنے کا عمل شرع کیا جائے گا اور کسی بھی مستقل ورکر کی وفات یا ریٹائر منٹ کے بعد اس کے لواحقین کو نوکری میں فوقیت دی جائے گی۔ یونین ان مذاکرات سے مطمئین تھی جبکہ دیگر معاملات پر بات چیت جاری تھی۔ کمپنی کی انتظامیہ نے اس دوران ہیومن ریسورس مینیجرکو تبدیل کر دیا۔ نئے ہیومن ریسورس مینیجرجو کہ قائد حزبِ اختلاف چودھری نثار احمد کے بہنوئی ہیں انہوں نےمورخہ 15 مئی کومیٹنگ کے دوران اعلان کیا کہ اس سے پہلے جو کچھ طے ہوا ہے اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور یہ کہ کمپنی کسی ملازم کو مستقل نہیں کرے گی۔ یونین نے اس پر شدید احتجاج کیا جس کے بعد ہوٹل کے ورکرز بھی اس احتجاج میں شامل ہو گئے۔
مورخہ ۱۷ مئی کو پاکستان شوگر ورکرز فیڈریشن، ہوٹل ورکرز فیڈریشن اور نیشنل فیڈریشن ٓاف فوڈ، بیوریجز اینڈ ٹو بیکو ورکرز نے مشترکہ پریس کانفرنس منعقد کی جس سے بشیر احمد، غلام محبوب، خائستہ رحمان اور قمرالحسن نے خطاب کیا۔
ہم ایک اہم مسئلے کی جانب توجہ مبذول کروانا چاہتے ہیں کہ صنعتی تعلقات کا قانون مورخہ 30 اپریل کو ختم ہو چکا ہے اور اس قانون کے تحت قائم تمام ادارے غیر فعال ہو چکے ہیں جس کے باعث ملک بھر میں لیبر کورٹس ، لیبر اپیلیٹ ٹریبونلز ، رجسٹرار آف ٹریڈ یونینز، ٹریڈ یونینز ، اجتماعی سوداکار ایجینٹس(سی بی اے) این آئی آر سی و دیگر ادارے غیر فعال ہوگئے ہیں ۔ ملک بھر میں ہزاروں کیس جو لیبر کورٹس میں پہلے ہی تاخیر اور سست روی کا شکار تھے مزید تاخیر کا شکار ہوگئے اور محنت کشوں کو جو سستے اور فوری انصاف کے خواب دیکھتے ہیں مزید التواء شدہ مقدموں کا سامنا ہے۔
پاکستان ہوٹلز، ریسٹورانٹس،کلبس،ٹورزم ،کیٹرنگ اینڈ الائیڈ ورکرز فیڈریشن کی جانب سے ڈریم ورلڈ اینڈ فیملی ریزورٹ کے
محنت کشوں پر انتظامیہ کی جانب سے روا رکھی جانے والی زیادتیوں کے خلاف ڈریم ورلڈ کے ہیڈ آفس پر مظاہرہ کیا گیا ۔ اس مظاہرے میں کراچی کے ہوٹلز اور کلب میں کام کرنے والے محنت کشوں کے علاوہ دیگر ٹریڈ یونینز، این جی اوز اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے کارکنان نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ڈریم ورلڈ فیملی ریزورٹ کے مزدوروں کی حمایت میں پلے کارڈ اور بینر اٹھا رکھے تھے،اس موقع پر مزدور رہنمائوں نے اپنے اپنے خطاب میں ڈریم ورلڈ کی انتظامیہ کے مزدور دشمن رویہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ڈریم ورلڈ فیملی ریزورٹ آسودہ حال لوگوں کی تفریح کا مقام ہے لیکن یہاں کام کرنے والے محنت کش بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں،تفریح کی غرض سے آنے والے معزز مہمانوں کی خدمت کرنے والے نان شبینہ کو محتاج ہیں۔
ڈیموڈیڈو ورکرز یونین سمجھ گئی ہے کہ پچھلے مہینوں میں ہونے والے چھ حادثوں میں سے تین حادثےایک ہی ہفتہ میں رونما ہوئے ہیں ان کا براہِ راست تعلق کام کے گھنٹے بڑھانے سے ہے۔جب سے کمپنی نے اپنے ماسکو کے تین ڈسٹری بیوشنز ڈپو میں سے ایک ڈپو نومبر 2008 سے بند کیا ہے، کام کے اوقاتِ کار 12 سے 15 گھنٹے ہو گیا ہے بلکہ 16 گھنٹے تک بڑھ گیا ہے۔20 کلو کی پانی کی بوتلوں کی زیادہ سے زیادہ ایک ٹرک میں حفاظتی اقدامات کے تحت 140 بوتلیں ڈرائیورز اور لوڈرز کے ذریعے لوڈ کی جاتی ہیں اور روزآنہ 36 ڈیلیوریز ہوتی ہیں اور اس کے بدلے کوئی اوور ٹائم تنخواہ نہیں ہے جبکہ یہ سختی کے ساتھ پیس ریٹس پلس بونس سے جڑا ہوا ہے۔ کچھ ڈرائیورز کو جو یونین میں شامل ہو چکے تھے انھیں دوبارہ چھوٹے ٹرک دیئے جا چکے ہیں اور انھیں کوٹہ پوراکرنا مشکل ہو رہا ہے ۔تو وہ مجبوراً ٹنوں کے وزن کے ساتھ نکلتے ہیں جو ٹھیک سے بندھا ہوا بھی نہیں ہوتا۔
وہ معاشرے جہاں محنت غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہو ، جہاں محنت کش زندگی کی بنیادی ضرورتوں تک سے محروم ہو۔۔۔۔افلاس، جہالت، بیماری اور ذلت اس کا
مقدر بنا دیا جائے، ایسے معاشروں میں جب بھی محنت کشوں نے اپنے حقوق و مراعات کے لئے آواز اُٹھائی تو غاصبوں نے ان پر بندوق اور لاٹھی اُٹھائی۔ ایسے میں اپنے حقوق کے لئے منظم ہونے اور تنظیم سازی کرنے کے قانونی حق کو تسلیم کروانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ انھیں مسائل کو حل کرنے اور مزدوروں کو منظم کرنے کے لئے ملتان میں کوکاکولاورکرز یونین کا قیام عاشق حسین بُھٹہ کی سربراہی میں عمل میں آیا۔ یونین کی قانونی رجسٹریشن میں ایک سال گزرنے کے باوجود رکاوٹیں حائل ہونے کے باوجود ان محنت کشوں کے حوصلے بلند ہیں۔ محنت کشوں کے علمی دن کے موقع پر ہیں تلخ بہت بندہء مزدور کے اوقات بہت کےعنوان سے پیپلز ایمپلائز یونین کوکاکولا بیوریجز ملتان ، وومن ورکرز فیڈریشن اور آئی یو ایف کے تعاون سےہوٹل شلٹن ٹاور ، ملتان کے میں ایک لیبر کانفرنس منعقد ہوئی۔ یومِ مئی تجدید عہد کا دن ہے اور پاکستان کے محنت کش شکاگو کے مزدوروں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے نہ صرف جدوجہد جاری رکھیں گے بلکہ ہر قسم کی قربانیوں کے لئے بھی تیار ہیں۔
میرے مزدور بھائیوں اور بہنوں!
یومِ مئی، امریکہ میں محنت کشوں کے کام کے اوقات کو آٹھ گھنٹے کرنے کی جدوجہد سے شروع ہوا تھا، جو کہ پوری دنیا میں 1890 سے منایا جا رہا ہے۔ اس دن کاعالمگیر چارٹر اس پر زور دیتا ہے کہ : یہ وہ دن ہے کہ جب پوری دنیا کے مزدور اس بات کا اعادہ کر تے ہیں کہ وہ اپنے مشترکہ مفادات کے لئے ایک ساتھ مل کر جدو جہد کریں گے۔
یومِ مئی دبانے ، پابندیاں لگانے اور خون بہانے جیسی ظالمانہ کاروائیوں کے خلاف ڈٹ جانے کی علامت کا دن بن چکا ہے۔ یہ دن مشترکہ طور پر ،ڈکٹیٹر اور آمریت پسندانہ نظامِ حکومت کے خلاف جدوجہد کی علامت کے طور پر مخصوص ہو چکا ہے۔ لیکن ّاج یہ دن مزدور تحریک کی جنگ کے بجائے ایک بے ضرر چھٹی کے دن کی طرح بن چکا ہے۔ اس کے باوجود مزدور یومِ مئی کا دن بہت جوش و خروش اور جذبے سے مناتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ معاشرے کا چین و سکون کی ذمہ داری صرف اور صرف ہماری توانائی ، ذہن، اور کاندھوں پر ہے۔







