Monthly Archive for April, 2010

زرعی کارکنان کو حق انجمن سازی ملنا چاہئے

پاکستان کی مزدور تحریک میں ایک مرتبہ پھر یہ بات سنہری حروف سے لکھی جائے گی کہ ملک میں محنت کشوں اور آجروں کے نمائندے اس بات پر متفق ہیں کہ تمام محنت کشوں (بشمول زرعی کارکنان، ماہی گیر وغیرہ )کو غیر مشروط حق انجمن سازی ملنا چاہئے ۔ پاکستان کی آزادی کے وقت نافذ قانون ٹریڈ یونین ایکٹ 1926 کے تحت ملک کے محنت کشوں کو ٹریڈ یونین بنانے کا غیر مشروط حق تھا۔ لیکن بعد میں اسے ختم کر دیا گیا اور آہستہ آہستہ ٹریڈ یونین کو صرف پرائیوٹ کارخانوں اور اداروں تک محدود کریا گیا ۔ آج زرعی کارکنان، ماہی گیروں حکومتی اداروں میں کام کرنے والوں سمیت دیگر بہت سے اداروں اور شعبوں کے   کارکنان کو ٹریڈ یونین بنانے کےحق سے محروم کر دیا گیا ہے۔بدقسمتی سے ملک میں ٹریڈ یونینز کمزور اور زوال پزیر رہی ہیں جس کے باعث وہ اپنا دفاع کرنے سے قاصر نظر آتی ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود ان کی خواہش اور کوشش ہے کہ  تمام محنت کشوں کو ٹریڈ یونین بنانے کا حاصل ہو۔ 2001 میں ہونے والی سہ فریقی لیبر کانفرنس میں پہلی مرتبہ آجر و کارکنان نے متفقہ طور پر سفارشات مرتب کیں اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام محنت کشوں کو انجمن سازی کا حق ملنا چاہئے۔ لیکن 2002 آئی آر او  میں ان سفارشات پر عمل نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد ہر مرتبہ جب بھی  سفارشات  مرتب کی گئیں آجر و اجیر اس بات پر متفق ہیں کہ تمام محنت کشوں کو انجمن سازی کا حق ملنا چاہئے۔حکومت پاکستان نے آئی ایل او کنو نشنز  87،11 اور 98 کی توثیق کی ہوئی ہے لیکن آج تک اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا جس کے باعث حکومت کو ہر سال آئی ایل او میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ آئی ایل او نے کئی مرتبہ حکومت پاکستان کو متنبہ کیا ہے کہ ان کی قانون سازی ا ٓئی ایل او کنو نشنز کے برخلاف ہے ۔ اس مرتبہ حکومت پاکستان کے پاس ایک اچھا موقع ہے کہ وہ اپنے دامن پر لگے اس داغ کو دھو ڈالے ۔ پیپلز پارٹی کی حکومت سے تمام محنت کشوں کو ہمیشہ توقعات وابستہ رہی ہیں ۔ 2008 آئی آر اے کے بعد صنعتی  تعلقات کے لئے نئی قانون سازی حکومت کے وعدے کے مطابق اس سال جلدی ہونی ہے۔اگر پیپلز پارٹی کی حکومت ملک کے تمام محنت کشوں کا ٹریڈ یونین سازی کا حق بحال کر نے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ ایک ایسا تاریخی کارنامہ ہو گا جو پیپلز پارٹی کے بانی و چیئر مین ذوالفقار علی بھٹو بھی انجام نہ دے سکے ۔ اُس وقت شاید انھیں آجران کی حمایت حاصل نہ تھی لیکن آج ملک کے سرمایہ دار/ آجران/ صنعت کارکھل کر یہ مطالبہ کرنے لگے ہیں کہ  تمام محنت کشوں کوبلا امتیاز ٹریڈ یونین بنانے کا  حق حاصل ہونا چاہئے۔

زرعی کارکنان کو حق انجمن سازی ملنا چاہئے

پاکستان کی مزدور تحریک میں ایک مرتبہ پھر یہ بات سنہری حروف سے لکھی جائے گی کہ ملک میں محنت کشوں اور آجروں کے نمائندے اس بات پر متفق ہیں کہ تمام محنت کشوں (بشمول زرعی کارکنان، ماہی گیر غیرہ) کو غیر مشروط حق انجمن سازی ملنا چاہئے ۔ پاکستان کی آزادی کے وقت نافذ قانون ٹریڈ یونین ایکٹ 1926 کے تحت ملک کے محنت کشوں کو ٹریڈ یونین بنانے کا غیر مشروط حق تھا۔ لیکن بعد میں اسے ختم کر دیا گیا اور آستہ آہستہ ٹریڈ یونین کو صرف پرائیوٹ کارخانوں اور اداروں تک محدود کریا گیا ۔ آج زرعی کارکنان، ماہی گیروں حکومتی اداروں میں کام کرنے والوں سمیت دیگر بہت سے اداروں اور شعبوں کے   کارکنان کو ٹریڈ یونین بنانے کےحق سے محروم کر دیا گیا ہے۔بدقسمتی سے ملک میں ٹریڈ یونینز کمزور اور زوال پزیر رہی ہیں جس کے باعث وہ اپنا دفاع کرنے سے قاصر نظر آتی ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود ان کی خواہش اور کوشش ہے کہ  تمام محنت کشوں کو ٹریڈ یونین بنانے کا حاصل ہو۔ 2001 میں ہونے والی سہ فریقی لیبر کانفرنس میں پہلی مرتبہ آجر و کارکنان نے متفقہ طور پر سفارشات مرتب کیں اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام محنت کشوں کو انجمن سازی کا حق ملنا چاہئے۔ لیکن 2002 آئی آر او  میں ان سفارشات پر عمل نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد ہر مرتبہ جب بھی  سفارشات  مرتب کی گئیں آجر و اجیر اس بات پر متفق ہیں کہ تمام محنت کشوں کو انجمن سازی کا حق ملنا چاہئے۔حکومت پاکستان نے آئی ایل او کنو نشنز  87،11 اور 98 کی توثیق کی ہوئی ہے لیکن آج تک اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا جس کے باعث حکومت کو ہر سال آئی ایل او میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ آئی ایل او نے کئی مرتبہ حکومت پاکستان کو متنبہ کیا ہے کہ ان کی قانون سازی ا ٓئی ایل او کنو نشنز کے برخلاف ہے ۔ اس مرتبہ حکومت پاکستان کے پاس ایک اچھا موقع ہے کہ وہ اپنے دامن پر لگے اس داغ کو دھو ڈالے ۔ پیپلز پارٹی کی حکومت سے تمام محنت کشوں کو ہمیشہ توقعات وابستہ رہی ہیں ۔ 2008 آئی آر اے کے بعد صنعتی  تعلقات کے لئے نئی قانون سازی حکومت کے وعدے کے مطابق اس سال جلدی ہونی ہے۔اگر پیپلز پارٹی کی حکومت ملک کے تمام محنت کشوں کا ٹریڈ یونین سازی کا حق بحال کر نے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ ایک ایسا تاریخی کارنامہ ہو گا جو پیپلز پارٹی کے بانی و چیئر مین ذوالفقار علی بھٹو بھی انجام نہ دے سکے ۔ اُس وقت شاید انھیں آجران کی حمایت حاصل نہ تھی لیکن آج ملک کے سرمایہ دار/ آجران/ صنعت کارکھل کر یہ مطالبہ کرنے لگے ہیں کہ  تمام محنت کشوں کوبلا امتیاز ٹریڈ یونین بنانے کا  حق حاصل ہونا چاہئے۔

پاکستان ورکرز کنفیڈریشن کے کی گورننگ باڈی کے اجلاس میں پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کراچی کے ورکرز کی جدوجہد کو قرار داد کے ذریعے خراج تحسین پیش کیا گیا۔

پاکستان ورکرز کنفیڈریشن کا اجلاس منعقدہ 4 مارچ کراچی پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کراچی کے ورکرز کی 8 سالوں سے جاری جدوجہد کو زبردست خراجِِ تحسین پیش کرتا ہے یہ اجلاس انتظامیہ کی جانب سے سودے کار یونین کے ساتھھ مزاکرات نہ کرنے اور صنعتی امن کو خراب کرنے جیسے اقدامات کی شدید مذمت کرتا ہے ۔پاکستان ورکرز کنفیڈریشن کایہ اجلاس 24 فروری کہ انتظامیہ کی جانب سے یونین کے مذید عہدیداروں کی بر طرفی کی بھی مذمت کرتا ہے اور یہ مطالبہ کرتا ہے کہ انتظامیہ پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کراچی فوری طور پر یونین ہدیداروں کی بر طرفی کے احکامات کو واپس لے اور سودے کار یونین کے ساتھھ باہمی مذاکرات کے ذریعے معاملات کو حل کیا جائے۔اجلاس اپنی ملحق تنظیموںسے درخواست کرتا ہے کہ مزدوریکجہتی کے لئے پرل کانٹی نینٹل ہوٹل ورکرز کی حمیت جاری رکھیں اور ان کی جدوجہد میں ہر طرح سے شرکت کریں۔پاکستان ورکرز کنفیڈریشن کے مرکزی گورننگ باڈی کے اجلاس منعقدہ 4 مارچ کراچی میں یہ قرارداد منظور کی گئی۔

8 مارچ (عالمی یوم خواتین) کے موقع پر آئی یو ایف ایشیاء بحرالکاہل کے علاقائی سیکرٹری ماوے پن کا پیغام – وومن ورکرز فیڈریشن کے نام

ہر سال 8 مارچ کے موقع پر ہمارے کروڑوں بھائی اور بہنیں دنیا بھر میں عالمی یوم خواتین مناتے ہیں۔امسال یعنی 2010 میں اقوام متحدہ نے عالمی یوم خواتین کے موقع پر جو عنوان تجویز کیا ہے وہ ” حقوق میں برابری ، موقع میں برابری اور سب کے لئے ترقی “۔یہ بہت اہم ھے کیونکہ آج ھم اس دن کی مناسبت سے یہ ثابت کر رھے ہیں کہ  خواتین کے لئے برابری کی جانب ھم پیش رفت کر رہے ہیں ۔ ہمارے سماج میں خواتین کو در پیش چیلنجز کا ہم تجزیہ کر رہے ہیں اور خواتین کا معیار ذندگی بڑھانے کے لئے ہمیں مستقبل میں جن اقدامات کی ضرورت ہو گی اس کو بھی دیکھہ رہے ہیں۔اس موقع پر ہم ان چھہ خواتین کو مبارکباد پیش کرتے ہیں جنھیں حال ہی میں یونی لیور فیکٹری رحیم یار خان میں مستقل ملازمت حاصل ہوئی۔ یہ خواتین ان سینکڑوں خواتین کے ساتھھ اس کمپئن کا جز تھیں جو کہ یونی لیور کے خلاف چلائی گئی۔ ان خواتین کے ساتھھ وومن ورکرز فیڈریشن ملتان کی یکجہتی اور حمایت کس قدر اہم تھی اس کا اندازہ آپ اس طرح لگا سکتے ہیں کہ اس جدوجہد نے یو نی لیور جیسی بڑی ملٹی نیشنل کمپنی کو مجبور کر دیا کہ وہ اپنے صنعتی تعلقات اور ایمپلا ئمنٹ کا ماڈل ہی تبدیل کر دے ۔ یہ ایک تاریخی کامیابی ہے اوریہ کامیابی صرف رحیم یار خان کی خواتین کے لئے نہیں بلکہ پورے پاکستان کی خواتین کے لئے ہے۔ہمیں امید ہے کہ خواتین رحیم یار خان اور خانیوال میں حاصل کی جانے والی کامیابیوں کا اثر لیں گی ۔ ایک ساتھھ کھڑے ہونے اور مل کر عمل کرنے سے خواتین طاقت ور ہو سکتی ہیں اور ہم ان کے ساتھہ مساوی سلوک کے مطابے کے ساتھھ یہ بھی مطالبہ کر سکتے ہیں کہ خواتین کا احترام اور عزت کی جائے۔ہم نہ صرف اپنے لئے بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی بہترتبدیلیاں لا سکتے ہیں۔آپ آج یہاں موجود ہیں تو آپ کو یہ بھی یاد رکھنا ہے کہ آج دنیا بھر میں خواتین ہر جگہ اسی طرح موجود ہیں اور ان کے شانہ بہ شانہ”حقوق میں برابری ، موقع میں برابری اور سب کے لئے ترقی” کی جدو جہد میں شامل ہیں ۔ ہمیں اپنی کامیابیوں کا جشن منانا چاہئے۔ جب ہم خواتین کی برابری اور انصاف کی بات کرتے ہیں تو ہم دراصل ماضی کے مقابلے میں آٓج فرق پیدا کر رہے ہیں۔ میں آئی یو ایف ایشیاء بحرالکاہل کی علاقائی کمیٹی ، خواتین کمیٹی اور تمام ممبران کی جانب سے عالمی یوم خواتین کے موقع پر نیک خواہشات کا اظہار کرتا ھوں اور آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ اہنے مقاصد میں کامیاب ھوں گی۔

کوکا کولا ملتان میںمزدوروں کی لازوال جدوجہد

نیشنل فیڈریشن آف فوڈ، بیوریجز اینڈ ٹوبیکو ورکرز کی مسلسل دو سالہ جدوجہد کے بعد کوکا کولا  ملتان میں محنت کشوں کے ایک گروپ نے آخر کار یونین بنا ہی ڈالی ۔

…تفصیل

یونی لیور خانیوال میں چائے فیکٹری میں بھرتی کے خطوط جاری

20جنوری 2010کی تاریخ نہ صرف چائے فیکٹری کی بلکہ پورے خانیوال شہر میں ایک تاریخی دن کے طور پر یاد رکھی جائے گی جب یہاں یونی لیور فیکٹری کی انتظامیہ نے 177کارکنان کو مستقل بھرتی کے خطوط جاری کیے,یہ خطوط آئی یوایف اور یونی لیور کے درمیان ایک معاہدے کی روشنی میں جاری کیے گئے جو کہ گزشتہ سال لندن میں ھوا تھا۔معاہدے کے بعد اس پر عمل درآمد کا ایک  طویل اور پیچیدہ عمل شروع ھوا جس کے بعدآخر کار ان کارکنان کو بھرتی کے خطوط جاری کر دیئے گئے۔یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ھے کہ اس فیکٹری کو جب سے یونی لیور نے خریدا تھا اس کے بعد سے یہاں پہلی مرتبہ مستقل بھرتی کی گئی ھے اور جن کارکنان کو یہ خطوط جاری کیے گئے ان میں اکثر15سال سے زائدعرصہ سے اس فیکٹری میں ٹھیکیداری نظام کے تحت  کام کر رہے تھے۔شدید سردی اور دھند کے باوجود مزدوروں کی بڑی تعداد فیکٹری گیٹ سے باہر نعرہ لگا رہی تھی اور آتش بازی کا مظاہرہ کر رہی تھی ۔جب یہ کارکنان بھرتی کے خطوط حاصل کر رہے تھے تو اس دوران نہایت ہی جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔یہ کارکنان ایک طویل خواب کو حقیقت کے روپ میں دیکھہ کرتڑپ اُٹھے تھے ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے ۔ ہونٹ خاموش تھے لیکن چہرے چمک رہے تھے وہ بڑے صبر کے ساتھہ لائن بنا کر اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے ۔ آخر کار جب تمام کارکنان کو خطوط مل چکے تووہ باہر اپنے ساتھیوںسے ملنے چل دیے جو بڑی بے تابی سےان کا انتظار کر رہے تھے ۔ مبارکبادیں ، مٹھائیاں،پھول ہار۔آ ج کسی کا بس نہیں تھا کہ وہ اپنی خوشی کا اظہار کس طرح کرے ۔ یونی لیور فیکٹری کے احاطے میں سردی اور دھند سے بھری رات ان کے جذبات ٹھنڈے کرنے میں ناکام تھی۔ برسوں پہلے سے جو خواب ان کی آنکھوں میں مچل رہے تھے آج اس کی تعبیر کا دن تھا ۔ حقوق حاصل کرنے کی سمت پہلا کامیاب قدم اٰٹھہ چکا تھا اور یہ قدم کئی اور آنکھوں میں خواب جگا رہا تھا ۔ دنیا بھر میں وہ لوگ جنھوں نے اس کامیابی کے لئے جدوجہد میں ساتھہ نبھایااور جن کا ان لوگوں سے براہ راست کوئی تعلق نہیں تھا صرف ایک رشتہ تھا ۔محنت کش کا ، وہ بھی اس کامیابی پر نازاں تھے اور امید کے دروازے پر دستک دے رہے تھے کہ ایسی کامیابی مشکل ہی سے ملتی ہے مگر نا ممکن تو کچھہ بھی نہیں۔