یونی لیور رحیم یار خان ورکرز ایکشن کمیٹی کی جانب سے یوم مئی کے موقع پر ریلی نکالی گئ جو شہر بھر میں
گشت کرتی ھوئی ریلوے گراونڈ پہنچ کر جلسے میں تبدیل ھو گئی، اس موقع پر مزدور رہنماوں نے شکا گو کے شہدوں کو انکی قربانیوں پر خراج تحسین پیش کرتے ھوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ مزدور حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رہے گی،اس موقع پر یونی لیور انتظامیہ کی مزدوروں کے خلاف رکھی جانے والی کاروائیوں کی شدید مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ یونی لیور میں عرصہ دراز سے کام کرنے والے غیر مستقل کارکنان کو مستقل کیا جائے اور مستقل نوعیت کے کام پر مستقل ورکرز رکھا جائے،جلسے کے شرکاء نے اس موقع پر نیسلے کبیر والا اور انڈو نیشیاء کے کارکنان کے ساتھہ اظہار یکجہتی کرتے ھوئے ان کی جدوجہد کی مکمل حمایت کی اور نیسلے انتظامیہ
مزدور رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پارلیمنٹ میں محنت کشوں کے لئے 5 فیصد سیٹیں
مختص کیجائیں نیز مزدوروں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے یکم مئی کے موقع پر ” مزدور ایوارڈ ” کا اجرا ء کیا جائے ۔ یہ مطالبات یوم مئی کی مناسبت سے نکالی جانے والی مشعل بردار ریلی کے اختتام پر قراردادوں کے ذریعے منظور کیں ۔ پرل کانٹی نینٹل ہوٹل ورکرز یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام ہر سال 30 اپریل کی شام مشعل بردار ریلی کراچی میں ایک سر گرم روایت بن گئی ہے ۔ ، جس میں شہر بھر کے رہنما ، ٹریڈ یونین کارکنان ، سماجی ، سیاسی ،اور پرو فیشنل تنظیموں کے اراکین شریک ہوتے ہیں ۔ اس سال بھی یہ ریلی کراچی
آئی یو ایف سے ملحقہ ناروے کی یونائیٹڈ فیڈریشن اف ٹریڈ یونینز فیلسفوربنڈیٹ نے ہوٹلز اور ریسٹورانٹ کے ورکرز کے لئے ایک نئے قومی اجتماعی معاہدے پر گفت شنید کی ہےاور عارضی ایجنسی ورکرز کے لئے برتاو کے معیار کا تحفظ کیا اور اس کے خلاف آجر کی مزاحمت پر غلبہ حاصل کیا ۔ معاہدہ یہ ضمانت فراہم کرتا ہے کہ جیسی تنخواہ اور شرائط پر براہ راست ملازم کام کرتا ہے بالکل انھی شرائط اور تنخواہ پر ایجنسی ورکر بھی کام کرے گا اور یہ بھی ڈیمانڈ رکھی گئی کہ ایجنسی ورکرز کو اجتماعی سوداکاری میں شامل ہونے کا حق ہو گا جو کہ پوری انٹرپرائزز کو کور کرے گا۔ معاہدہ 8 گھنٹوں کے طویل اور سخت مزاکرات کے بعد مورخہ 19 اپریل کوطے پایا۔
کمشنر لاہور کی اپنے بھائی کی نوکری بچانے کی کوشش
وطن عزیز میں دہشتگردی سے نپٹنے کے لئے انسداد دہشتگردی ایکٹ بنایا گیا تھا لیکن یہ قانون اب اپنے حق کی آواز بلند کرنے والے اور اپنے آئینی حقوق حاصل کرنے ک
ی جدو جہد کرنے والے محنت کش رہنماؤں کے خلاف استعمال ہونا شروع ہو گیا ہے ۔ صوبہ پنجاب اس معاملے میں دوسرے صوبوں سے آگے ہے جہاں اس قانون کا استعمال عام ہوتا جا رہا ہے ۔اور قوم کو یہ نوید دی جا رہی ہے کہ مزدور رہنما اور ٹریڈ یونین کارکنان دہشت گرد ہو گئے ہیں ۔اس صورتحال نے فوجی آمروں کے دور کی یاد تازہ کردی ہے جب کسی ملک میں حقوق کی جدو جہد کرنے والوں کو نہ صرف پابند سلاسل کیا جاتا تھا بلکہ انہیں ملک دشمن اور دہشت گرد قرار دیا جاتاتھا ۔ موجودہ حکومت کے دور میں یہ اس ملک کی بیوروکریسی ہے جو جمہوری دور، آمرانہ دور کے طریقہ واردات استعمال کر کے مزدور رہنماؤں کو یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ کہ اس ملک میں حقوق کی بات کرنے والے کل بھی ملک کے دشمن تھے اور آج بھی دہشت گرد قرار دیے جا سکتے ہیں ۔ گذشتہ سال فیصل آباد میں چھہ مزدور رہنماؤں کو انسدادد ہشتگردی کی عدالت سے سزائیں دلوائی گئیں ۔ اس سال کر شروع میں کراچی میں بارہ پاور لومز ورکرز کے خلاف انسدادد ہشتگردی کے قانون کے تحت کاروائی ہوئی اور اب لاہور کے پانچ ستارہ ہوٹل کے ٹریڈ یونین کے رہنماؤں کو دہشتگرد قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی عنقریب آئینی تر میم کے ذریعے مزدوروں کے لیے پارلیمنٹ میں سیٹیں مختص کرے گی اور
محنت کشوں کے لیے قانون سازی جاری رہے گی، یہ بات نو منتخب سینیٹر سعید غنی نے اپنے اعزاز میں منعقد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کی۔ تقریب کا انعقاد پرل کانٹی نینٹل ھوٹل کراچی ورکرز یکجہتی کمیٹی نے کیا تھاجس سے مزدور رہنماوں منظور رضی،غلام محبوب، حبیب الدین جنیدی، لیاقت علی ساہی، مرزا مقصود،ایوب قریشی، شیخ مجید،شفیق غوری، قمرالحسن،لطیف مغل، منظور بدایونی اور دیگر نے بھی خطاب کیا، سعید غنی نے مقررین کی اس تجویز سے اتفاق کیا کہ مزدور رہنماوں کی عزت و توقیر کے لیے یکم مئی کو
مورخہ 19 اپریل کو نیسلے
کے شئیر ہولڈرز سوئیٹزر لینڈ میں شیئر ہولڈرز کی سالانہ میٹنگ کی تیاری کر رہے ہیں ، نیسلے پر نظر رکھنے والے یہ نوٹ کریں کہ مورخہ 6 اپریل کو کبیر والہ پاکسان میں عدالت نے منیجر جہانگیر کے نام سے ٹھیکیدار کے لئے گرفتاری کا وارنٹ جاری کر دیا ہے ، یہ کبیر والہ میں واقع نیسلے کے ڈیری پلانٹ کے لئے سینکڑوں محنت کشوں کو نہایت خراب حالات کار کے تحت روزگار فراہم کر رہا ہے ۔
مورخہ 28 مارچ کو 300 سے
زائد نیسلے کبیر والا کے محنت کشوں نے صبح سے شام تک احتجاجی کیمپ منظم کر کے اس بات کا عندیہ دیا کہ جب تک انکے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے وہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔
نیسلے کبیروالا فیکٹری میں کنٹریکٹ ورکرزایک طویل عرصہ سے کام کر رہے ھیںاورجب ان ورکروں نے انتظامیہ سے مستقل ملازمت کا مطالبہ کیا تو ان کے خلاف انتقامی کاروائیاں شروع کردی گئیں۔ ایک سال سے زائد عرصہ گذرنے کے با وجود ان کارکنان کی مستقل ملازمت کے حصول کے لیے تحریک جاری ھے۔
نیسلے ورکرز کی جدوجہد کی خبریں اور
نیسلے کمپنی کی جانب سے ٹریڈ یونین حقوق کی خلاف ورزیاں اور ملازمتوں کے تحفظ کے بارے میں اطلاعات تیزی سے دنیا بھر میں پھیل رہی ہیں۔
مارچ کو روس میں آئی یو ایف سے ملحق ایگرو انڈسٹریل ورکرز یونین نے ماسکو میں نیس پریسو
بوتیک کے باہر گاہکوں میں پمفلٹ تقسیم کئے۔ اس سے قبل یونین کی صدر نتالیا آگایوا نے پرم اور تیماشیش نیسلے ورکرز کی طرف سے کمپنی کو لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا کہ پنجانگ انڈونیشیا میں تمام برطرف یونین ممبرانکو بحال کیا جائے اور کبیر والا پاکستان میں ٹھیکیدار ملازمین کو مستقل ملازمت مہیا کی جائے۔
…
..
حال ہی میں نیسلے نے اپنی سالانہ رپورٹ
برائےسال 2011 شائع کی جس میں ساتھی شراکت داروں کے خطوط اور قارئین کو مشغول کرنے کی کوشش کی گئی ھےجو کسی موقع پراعداد و شمار اور حقاق کو نظر انداز کر دیتے ھیں، انہیں ایک ”نئی حقیقت” سے آگاہ کیا جا رہا ھے۔ ورکرز کے لیے ”نئی حقیقت ” کم و پیش وھی ھے جس میں مزدوروں کے حقوق کو پا مال کر کے سر مایہ کاروں کو پر تیعئش ادائیگی کی جاتی ھے۔
نیسلے کے مطابق ”نئی حقیقت” کی خصوصیات میں سیاسی رسہ کشی، غیر یقینی اقتصادی صورتحال، ترقی یافتہ مارکیٹوں میں ویرانی، اعلیٰ سطح پر اجناس کے نرخوں میں اتار چڑھاو، کرنسی اور اسٹاک مارکیٹ شامل ھیں، مگر ابھرتی ھوئی مارکٹوں میں ترقی بھی نظر آ رہی ھے۔ دولت کی فراوانی، ٹیکنا لوجی اور جدید مواصلاتی نظام میں ترقی، نئی مارکٹیں اور صارفین تک رسائی کے جدید ذرائع اور بے شک صارفین کی بڑھتی ھوئی تعداد۔
مورخہ 20 مارچ 2012 کو کوریا میں نیسلے کوریا
لیبر یونین کی عہدیداران اور نمائندگان کی ایک میٹنگ میں یہ بیان جاری کیا اور نیسلے پاکستان اور انڈونیشیا پر زور دیا کہ وہ ورکرز پر سےدباؤختم کرے ۔ نیسلے کوریا لیبر یونین کوریا کی پہلی نیسلے کی یونین ہے ۔ اس بیان میں نیسلے کے ا یک ورکر پر حملہ دنیا بھر کے نیسلے کے ورکرز پر حملہ تصور کیا جاتا ہے ۔ نیسلے کوریا لیبر یونین نے مزید زور دیا کہ نیسلے ایس بی این آئی پی کے تمام برطرف مببران کو فوری بحال کرے اور مزاکرات شروع کرے اور کبیروالہ میں کانٹریکٹ ملازمین کے خلاف تمام مقدمات واپس لے اور یونین کے ساتھہ ان ملازمین کے ایمپلائمنٹ اسٹیٹس پر گفت و شنید کرے ۔
