آئی یو ایف ، کوکاکولا کمپنی (ٹی سی سی سی) اور پاکستان میں کوکاکولا کے بوٹلرسی سی آئی کے درمیان کوکاکولا بیوریجز پاکستان لمیٹڈ میں روزگارکےتحفظ اور
ٹریڈ یونین کے حقوق پر ایک طویل اور سخت تنازعہ کامیابی سے حل کرلیاگیا ہے۔ کوکاکولا بیوریجزپاکستان دراصل کوکا کولا کمپنی اور سی سی آئی کی مشترکہ ملکیت ہے۔ معاہدے کی رو سے، غلط طریقے سے نکالے گئے تمام ورکرز کو مکمل تنخواہ کے ساتھہ بحال کیا جائے گا۔ کمپنی ، پیپلز ایمپلائزیونین (پی ای یو) کو ملتان میں آئی یو ایف کے ممبرز کی نمائندہ کی حیثیت سے تسلیم کرتی ہے اور یہ ضمانت دیتی ہے کہ وہاں یونین کے ممبران اور عہدیداراں کو ہراساں یا ان کے ساتھہ کوئی ذیادتی نہیں کی جائے گی۔
غیر مستحکم اور غیر مستقل روزگار کے عمل کی اصلاح کے لیے، جو کہ ٹریڈ یونین حقوق کی نفی ہے، معاہدہ نے ۱۸۷ مستقل اور براہ ِراست ملازمتوں کی صورتحال پیدا کیں ہیں۔
بین لا قوامی سطح پرمعاہدہ کی نگرانی آئی یو ایف اور سی سی آئی ۔ ٹی سی سی سی کی مشترکہ کمیٹی کے ذریعے ہوگی اور اس پرعمل درآمد مقامی طریقے سے ہوگا۔ پاکستان میں معاہدہ پر عمل درامد کے عمل میں آئی یو ایف کے ممبران کی واضح نمائیندگی ہوگی۔
…تفصیل
28 مئی کو سی بی اے سرٹفکیٹ حاصل کرنے کے بعد کوکا کولا یونین گجرنوالہ نے 19 جون کو چارٹر آف ڈیمانڈ دے دیا۔
اس سے قبل یونین نے اپنے ممبران کے ساتھہ ساتھہ فیڈریشن سے ملحق یونینوں کے ساتھہ بھی چارٹر آف ڈیمانڈ بنانے کے لیے مشورے کیے، مورخہ 9 جون کو آئی یو ایف پاکستان کے قمر الحسن اور آئی یو ایف ایشیاء پیسفک کے کوآرڈینٹر محمد ھدایت گرین فیلڈ نے گجرانوالہ کا دورہ کیا جہاں انھوں نے یونین کی گورننگ باڈی کے اجلاس میں شرکت کی اور اجلاس سے خطاب کیا، اپنے خطاب میں یونین کے جنرل سیکریٹری غلام مصطفے نے کہا کہ آج سے آٹھہ سال قبل یہاں ایک یونین بنی تھی لیکن انتظامیہ نے اسے ختم کر دیا ،آٹھہ سال کی مسلسل جدوجہد کے بعد کوکا کولا گجرانوالہ کے محنت کشوں نے ایک بار پھر یونین بنائی ھے اس مرتبہ انتظامیہ اسے ختم نہیں کر سکے گی کیونکہ اس مرتبہ ایک مضبوط قومی اور بین اقوامی تنظیم سے ہمارا الحاق ھے اور کوکا کولا کے محنت کش ھر طرح کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ھین،ھم نے انتظامیہ کو یہ پیغام دیا ھے کہ ہم پر امن رہ کر فیکٹری کی پیداوار میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں تا کہ محنت کشون کو زیادہ سےزیادہ مراعات مل سکے ،ہم صرف یہ چاہتے ھءں کہ انتطامیہ قانون پر عمل درآمد کرے اور محنت کشوں کو ان کے جائز حقوق اور مراعارت دیتی رھے، ہم صنعتی امن اور بھائی چارے کی فضا بر قرار رکھنا چاہتے ہیں لیکن اسے ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے،آئی یو ایف کے کو آرڈینٹر ھدایت گرین فیلڈ نے اس موقع پر خطاب کرتے ھوئے کہا کہ کوکا کولا کے محنت کش جہاں بھی ہیںاب ایک پیلٹ فارم پر جمع ھو گئے ہیں اور آپ بھی اب بین اقوامی برادری کا حصہ بن چکے ھیں، ھم سب مل کر دنیا کی سب سے بڑی مشروبات ساز کمپنی کا مقابلہ کر سکیں گے، بین اقوامی سطح پر جہاں مزدوروں کے لیے مسائل بڑھ رہے ھیں وہاں ہمارے لیے بھی مشترکہ طور پر کام کرنے کے لیے مواقع بھی بڑھ رہے ھیں، اب ہم نہ اپنے ملک میں بلکہ د نیا بھر میں مزدور برادری کے ساتھہ ھاتھوں میں ھاتھہ ڈال کر اپنے مطالبات اور حقوق کے لیے جدوجہد کر سکتے ھیں،
…تفصیل
پرل کانٹی نینٹل ھوٹل کی انتظامیہ نے راولپنڈی میں ایک بار پھر یونین کو ختم کرنے کی کوشش کی ھے اور مستقل مزدوروں کے لئے لاک آؤٹ کر دیا ھےجبکہ ہوٹل کو
غیرمستقل کارکنان کے ذریعے چلایا جا رہا ھے ۔ پی سی راولپنڈی میں اس سے قبل گزشتہ سال بھی انتظامیہ نے غیر مستقل ملازمین کو نکال دیا تھا۔ جس پر یونین نے احتجاجی تحریک شروع کی تھی اس کے نتیجے میں یہ غیر مستقل ملازمین کام پر واپس آگئےتھے۔مگر انتظامیہ نے یونین کے مطالبات کو دل سے تسلیم نہیں کیا بلکہ وہ موقع کی تلاش میں تھی کہ یونین کے خلاف کس طرح کوئی کاروائی کی جائے۔ یکم جنوری کو یونین نے چارٹر آف ڈیمانڈ دیاجس کے بعد انتظامیہ نےیونین سے مذاکرات شروع کیے ۔ مذاکرات میں یونین پلہ بھاری رہااور وہ انتظامیہ سے بہت سے مزاکرات منوانے میں کامیاب رہی۔ تین اہم معاملات پر ابھی مذاکرات جاری تھے۔جس میں غیرمستقل ملازمین کو مستقل کرنا، بونس کی ادائیگی اور تنخواہوں میں اضافہ شامل تھا ۔ انتظامیہ نے 55 غیرمستقل ملازمین کو مستقل کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کر دی تھی جس کے بعد پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کی انتظامیہ نے محسوس کیا کہ مذاکرات کی میز پر یونین کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں لہٰذا انھوں نے دوسری چال چلی اور ہیومن ریسورس مینیجر کو تبدیل کر دیا۔ نئے ہیومن ریسورس مینیجرمزاکرات کے دوران گزشتہ میٹنگز میں طے پا جانے والے معاملات سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئےانہیں ماننے سے انکار کر دیا۔
…تفصیل
آئی یو ایف کے تعاون سے مورخہ 7 جون 2010کو ملتان میں فوڈفیکٹریوں میں کام کرنے والی خواتین میں کام کی جگہ سے متعلق شعور اور آگاہی کے لئے ایک روزہ
تعلیمی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا ۔ اس تعلیمی ورکشاپ میں 30 خواتین نے شرکت کی ۔ان خواتین میں تقریباً 10 خواتین بسکٹ فیکٹریوں سے ،5 خواتین لڈو بنانے والی فیکٹریوں 2 خواتین ہوٹل سے تعلق رکھتی تھیں ۔آئی یو ایف سے محمد عثمان اور صائمہ قریشی ،ایشیاء پیسیفک ریجن کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ہدایت گرین فیلڈ ، وومن ورکرز فیڈریشن کی چیئر پرسن محترمہ مہک بٹ اور مہمانِ خصوصی میں صوبہ پنجاب کے محکمہ محنت کے ڈپٹی ڈائریکٹر جناب احمد خان لغاری صاحب نے بھی شرکت کی۔
ورکشاپ کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآن پاک کی آیاتِ مبارکہ سے ہوا اور اس کے بعدہدیہ نعت رسولِ مقبول پیش کی گئی ۔تقریب میں شامل شرکاء اور ورکشاپ کے تعارف کے ساتھ ساتھ وومن ورکرز فیڈریشن ،نیشنل فیڈریشن آف فوڈ ، بیوریجز اینڈ ٹوبیکو ورکرز اور آئی یو ایف کا رتعارف وومن ورکرز فیڈریشن کی چیئر پرسن محترمہ مہک بٹ نے کرایا۔کام کی جگہ پر کارکنا ن کے کے قانونی حقوق و مراعات کے حوالے سے آئی یو ایف کے آفیسر محمد عثمان نے سوشل سیکیورٹی ، (بڑھاپے اور معذوری کی پنشن ) کم از کم اُجرت ،چھٹیاں اور اوؤر ٹائم ئم ، میٹرینٹی کے فوائد اور جنسی ہراساں کے خلاف تفصیلاً روشنی ڈالی ۔ ڈپٹی ڈائریکٹر جناب احمد خان لغاری صاحب نے ورکرز ویلفیئر بورڈ ( جہیز گرانٹ ، سلائی مشینیں ، مکان اور فلیٹ) کے حولے سے خواتین ورکرز کو تفصیلات فراہم کیں۔خواتین ورکرز نے اس ورکشاپ میں بہت دلچسپی ظاہر کی انھوں نے کام کی جگہ پر قانونی حقوق حاصل کرنے کے حوالے ممکنہ سوالات بھی کیے، جس ان میں پیدا ہونے والے شعور کے بارے میںپتا چلا اور یہ بھی کہ اس تربیت میں یہ خواتین ذہنی طور پر کس حد تک شریک ہیں۔ ایشیاء پیسیفک ریجن کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ہدایت گرین فیلڈ نے ان خواتین ورکرز کو کام کی جگہ کے حوالے سے تجاویز پیش کیں۔
…تفصیل
نیشنل فیڈریشن آف فوڈ،بیوریجز اینڈ ٹوبیکو ورکرز کا گورننگ باڈی کا اجلاس مورخہ 5 جون 2010 کو ملتان میں فیڈریشن کے صدر نذد حسین شاہ کی صدارات میں منعقد
ہوا، اجلاس میں محترمہ مہک بٹ ،سید نزر حسین شاہ،خائستہ رحمان،سفیر مغل،خالد پرویز،جمشید اقبال سیال،عاشق حسین بھٹہ،محمد حسین بھٹی،محمد عظیم،جہانذیب خٹک،محمد فاروق،ندیم جاوید،عامر رشید بٹ،شہزاد سلیم،محمد یوسف،سید زمان،ڈاکٹر ھدایت گرین فیلڈ،قمر الحسن اور محمد عثمان نے شرکت کی ، اجلاس کا با قاعدہ آغاذ کو کا کولا فیصل آباد کے محمد فاروق نے تلاوت کلام پاک پڑھ کر کیا۔ فیڈریشن کے صدرنزر حسین شاہ نے ابتدائی کلمات میں تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ فیڈریشن کے پانچویں کورننگ باڈی اجلاس میں فیڈریشن کو مزید مستحکم اور فعال بنانے کے لیے اہم فیصلے کیے جائیں گے اور اس دوران ہم اپنی کمزوریوں کا بھی جائزہ لیں گے۔ڈاکٹر ھدیات گرین فیلڈ نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ وہ اس اہم اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں، آئی یو ایف کو فیڈریشن کی کارکردگی پر فخر ہے اور پوری دنیا میں آئی یو ایف کے الحاق یافتہ آپ کی جدوجہد سے واقف ہیں اور سب کی خواہش ہے کہ وہ پاکستان آ کر آپ سے ملا قات کریں اور یونی لیور میں کامیاب جدوجہد پر آپ کو مبارکباد پیش کریں۔
…تفصیل
چاروں جانب سے ٹریڈ یونینز فرنچ بیسڈ اکارگروپ سے مطالبہ کر چکی ہیں کہ وہ فوراً بین الا اقوامی یونین کے حقوق پر دوبارہ گفت و شنید شروع کرے ان اغراض و مقاصد پر جو اس نے 1995 میں آئی یو ایف کے ساتھہ کیا تھا۔ یہ مطالبہ آئی یو ایف کی سالانہ ھونے والی عالمگیر میٹنگ میں شرکت کرنے والی ھوسپیٹیلٹی ، ٹوررزم اور کیٹرنگ سیکٹرکی ممبر یونینز کی جانب سے کیا گیا جو کہ 17-18 مئی میں انقرہ میں منعقد ھوئی ۔ اکار کی برانڈز میں سوفیٹیل، پُلمین،میگ گیلری،نووٹیل،مرکری،سوئٹ ھوٹل ، ایبیس، تمام مصالحے،ایٹیپ ھو ٹل / فارمولا ون اور موٹیل سکس۔
…تفصیل
پرل کانٹی نینٹل ہوٹل راولپنڈی کے ہیومن ریسورس مینیجرکرنل (ریٹائرڈ) ذوالفقارنے مزدور دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے مذاکراتی عمل کوثبوتاژ کر دیا اورمورخہ 15 مئی کو پرل کانٹی نینٹل ہوٹل راولپنڈی کی انتظامیہ نے غیر قانونی طور پر تمام مستقل ملازمین کو باہر دھکیل دیا۔ یہ ورکر مطالبہ کر رہے تھے کہ یونین کے ساتھ ایگریمنٹ جلد از جلد کیا جائے۔ چارٹر آف ڈیمانڈ یکم جنوری کو انتظامیہ کو دیا گیا تھا جس میں تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کے ساتھ بونس کی ادائیگی اور غیر مستقل کارکنان کو مستقل کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ انتظامیہ کے ساتھ یونین کے مذاکراتی عمل کے کئی دور ہوئے جس میں یونین کے صدر ملک شیر احمد اور جنرل سیکریٹری اعجاز حسین بھی شامل تھےیہ مذاکرات بہت پُر امن ماحول میں ہو رہے تھےاور انتظامیہ نے یونین کے ساتھ اس بات پر اتفاق کر لیا تھا کہ 55 غیر مستقل ملازمین کو مستقل کر دیا جائے گا جبکہ ہر ماہ 2 ملازمین کو مستقل کرنے کا عمل شرع کیا جائے گا اور کسی بھی مستقل ورکر کی وفات یا ریٹائر منٹ کے بعد اس کے لواحقین کو نوکری میں فوقیت دی جائے گی۔ یونین ان مذاکرات سے مطمئین تھی جبکہ دیگر معاملات پر بات چیت جاری تھی۔ کمپنی کی انتظامیہ نے اس دوران ہیومن ریسورس مینیجرکو تبدیل کر دیا۔ نئے ہیومن ریسورس مینیجرجو کہ قائد حزبِ اختلاف چودھری نثار احمد کے بہنوئی ہیں انہوں نےمورخہ 15 مئی کومیٹنگ کے دوران اعلان کیا کہ اس سے پہلے جو کچھ طے ہوا ہے اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور یہ کہ کمپنی کسی ملازم کو مستقل نہیں کرے گی۔ یونین نے اس پر شدید احتجاج کیا جس کے بعد ہوٹل کے ورکرز بھی اس احتجاج میں شامل ہو گئے۔
…تفصیل
مورخہ ۱۷ مئی کو پاکستان شوگر ورکرز فیڈریشن، ہوٹل ورکرز فیڈریشن اور نیشنل فیڈریشن ٓاف فوڈ، بیوریجز اینڈ ٹو بیکو ورکرز نے مشترکہ پریس کانفرنس منعقد کی
جس سے بشیر احمد، غلام محبوب، خائستہ رحمان اور قمرالحسن نے خطاب کیا۔
ہم ایک اہم مسئلے کی جانب توجہ مبذول کروانا چاہتے ہیں کہ صنعتی تعلقات کا قانون مورخہ 30 اپریل کو ختم ہو چکا ہے اور اس قانون کے تحت قائم تمام ادارے غیر فعال ہو چکے ہیں جس کے باعث ملک بھر میں لیبر کورٹس ، لیبر اپیلیٹ ٹریبونلز ، رجسٹرار آف ٹریڈ یونینز، ٹریڈ یونینز ، اجتماعی سوداکار ایجینٹس(سی بی اے) این آئی آر سی و دیگر ادارے غیر فعال ہوگئے ہیں ۔ ملک بھر میں ہزاروں کیس جو لیبر کورٹس میں پہلے ہی تاخیر اور سست روی کا شکار تھے مزید تاخیر کا شکار ہوگئے اور محنت کشوں کو جو سستے اور فوری انصاف کے خواب دیکھتے ہیں مزید التواء شدہ مقدموں کا سامنا ہے۔
…تفصیل
پاکستان ہوٹلز، ریسٹورانٹس،کلبس،ٹورزم ،کیٹرنگ اینڈ الائیڈ ورکرز فیڈریشن کی جانب سے ڈریم ورلڈ اینڈ فیملی ریزورٹ کے
محنت کشوں پر انتظامیہ کی جانب سے روا رکھی جانے والی زیادتیوں کے خلاف ڈریم ورلڈ کے ہیڈ آفس پر مظاہرہ کیا گیا ۔ اس مظاہرے میں کراچی کے ہوٹلز اور کلب میں کام کرنے والے محنت کشوں کے علاوہ دیگر ٹریڈ یونینز، این جی اوز اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے کارکنان نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ڈریم ورلڈ فیملی ریزورٹ کے مزدوروں کی حمایت میں پلے کارڈ اور بینر اٹھا رکھے تھے،اس موقع پر مزدور رہنمائوں نے اپنے اپنے خطاب میں ڈریم ورلڈ کی انتظامیہ کے مزدور دشمن رویہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ڈریم ورلڈ فیملی ریزورٹ آسودہ حال لوگوں کی تفریح کا مقام ہے لیکن یہاں کام کرنے والے محنت کش بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں،تفریح کی غرض سے آنے والے معزز مہمانوں کی خدمت کرنے والے نان شبینہ کو محتاج ہیں۔
…تفصیل

ڈیموڈیڈو ورکرز یونین سمجھ گئی ہے کہ پچھلے مہینوں میں ہونے والے چھ حادثوں میں سے تین حادثےایک ہی ہفتہ میں رونما ہوئے ہیں ان کا براہِ راست تعلق کام کے گھنٹے بڑھانے سے ہے۔جب سے کمپنی نے اپنے ماسکو کے تین ڈسٹری بیوشنز ڈپو میں سے ایک ڈپو نومبر 2008 سے بند کیا ہے، کام کے اوقاتِ کار 12 سے 15 گھنٹے ہو گیا ہے بلکہ 16 گھنٹے تک بڑھ گیا ہے۔20 کلو کی پانی کی بوتلوں کی زیادہ سے زیادہ ایک ٹرک میں حفاظتی اقدامات کے تحت 140 بوتلیں ڈرائیورز اور لوڈرز کے ذریعے لوڈ کی جاتی ہیں اور روزآنہ 36 ڈیلیوریز ہوتی ہیں اور اس کے بدلے کوئی اوور ٹائم تنخواہ نہیں ہے جبکہ یہ سختی کے ساتھ پیس ریٹس پلس بونس سے جڑا ہوا ہے۔ کچھ ڈرائیورز کو جو یونین میں شامل ہو چکے تھے انھیں دوبارہ چھوٹے ٹرک دیئے جا چکے ہیں اور انھیں کوٹہ پوراکرنا مشکل ہو رہا ہے ۔تو وہ مجبوراً ٹنوں کے وزن کے ساتھ نکلتے ہیں جو ٹھیک سے بندھا ہوا بھی نہیں ہوتا۔
…تفصیل