یکم نومبر 2009پاکستان کی مزدور تحریک کا سنہرہ دن جب یونی لیور رحیم یار خان کے غیر مستقل ورکرز کی جدوجہد رنگ لائی۔ یونی لیور رحیم یار خان کے86محنت کش نہ صرف ملاذمت پر بحال ہوئے بلکہ انہیں مستقل ورکرز کی حیثیت بھی دی گئی اس کے علاوہ ورکرز کی 34 نئی آسامیوں پر تقرری بھی کی گئی۔

tn141 یونی لیور کی انتظامیہ نے پاکستان میں بتدریج اپنی فیکٹریوں سے مستقل ورکرز کا خاتمہ کر کے غیر مستقل ورکرز رکھنے شروع کر دئیے تھے۔

یونی لیور رحیم یار خان میں جب فیکٹری قائم ھو ئی تھی اس وقت 1200کے قریب مستقل ملازم اس فیکٹری میں کام کرتے تھے لیکن اس وقت فیکٹری میں مستقل ملازمین کی تعداد 250سے زیادہ نہیں جبکہ غیر مستقل کارکنان کی تعداد 600 کے قریب ھے، ۔کمپنی کا دعٰوی ھے کہ پاکستان میں اس کے تقریباً آٹھہ ہزار ملازم ہیں لیکن حقیقت یہ ھے کہ صرف 400ملازم ایسے ھوں گے جو مستقل ہیں اور جنہیں ادارے میں یونین بنانے اور اس میں شامل ھونے کا حق حاصل ھے۔ یونی لیور نے کراچی لپٹن ٹی فیکٹری سے تمام مستقل ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک اسکیم کے تحت فارغ کر دیا اور اب کراچی میں لپٹن چائے جسے یونی لیور اپنا” بلین ڈالر” برانڈ کہتی ھے ایک گمنام گودام میں غیر مستقل ورکرز تیار کر رھے ہیں۔

…تفصیل

پرل کانٹی نینٹل ھوٹل کراچی کے محنت کشوں کا عید کے دن پی آئی ڈی سی چوک پر مظاہرہ

پی سی ھوٹل کراچی کے ورکرز عید کے دن مظاہرہ کر رھے ھیں

پی سی ھوٹل کراچی کے ورکرز عید کے دن مظاہرہ کر رھے ھیں

پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کراچی ورکرز یکجہتی کمیٹی کےزیرِ اہتمام ھوٹل انتظامیہ کےآٹھہ سال سے جاری مزدور دشمن رویہ کے خلاف عید کے دن پی آئی ڈی سی چوک پر مظاہرہ کیا گیا۔

مظاہرےمیںپی سی ھوٹل کے بر طرف ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ سمیت مختلف ٹریڈ یونینز، این جی اوز اور دیگر سول سوسائٹی کی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی اس موقع پرکجہتی کمیٹی کی کنوینر لطیف مغل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی سی کراچی کے محنت کش اپنے بچوں کے ہمراہ گزشتہ آٹھہ سال سے عید کے دن اپنے حقوق کے حصول کے لئے مظاہرہ کر رہے ہیں لیکن ھوٹل انتظامیہ سمیت سندھ کی انتظامیہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی اور یہ مزدورآٹھہ سال سے بے روز گاری کا عذاب جھیل رہے ہیں۔ کمیٹی کے سیکریٹری غلام محبوب نے کہا کہ پی سی ھوٹل کے بر طرف ملازمین نے پچھلےآٹھہ سالوں سے اپنے حقوق کے حصول کےلئے پر امن مظاہرے اور دیگر احتجاجی طریقے اپنائے ہوئے ہیں۔

…تفصیل

کوکا کولا ملتان میں انتظامیہ اور لیبر ڈپارٹمنٹ کا مزدور دشمن رویہ

کوکا کولا ورکرز ملتان کی ریلی کا منظر

کوکا کولا ورکرز ملتان کی ریلی کا منظر

11جولائی کو ملتان میں کوکا کولا ورکرز نے احتجاجی ریلی نکالی جس کا عنوان” ہم کوکاکولامینجمنٹ کے مزدور دشمن رویہ کی بھر پور مذمت کرتے ہیں” تھا ۔کوکا کولا کے کارکنان انتظامیہ کے ظالمانہ رویہ کے خلاف مزاحمت اور اپنے حقوق کے حصول کےلئے سرگرمِ عمل ہیں۔جان سےمارنے کی دھمکی ، اغوا کرنا ، استحصال کرنا، نوکری سے نکال دینا:

…تفصیل

شکر کی قیمتوں میں اضافہ ۔شوگر ملز مالکان اور حکومت دونوں برا بر کے ذمہ دار ہیں

بشیر احمد پریس کانفرنس کر رہے ھیں

بشیر احمد پریس کانفرنس کر رہے ھیں

پاکستان میں شکر کے حالیہ بحران پر مختلف طبقہ ہائے فکر کے بیانات سامنے آرہے ہیں خاص طور پر حکومتی ادارے اور شوگر ملز مالکان تواتر کے ساتھ اس بحران کی ذمہ داری ایکدوسرے پر ڈال رہے ہیں پنجاب ہائی کورٹ کا اس زمن میں ایک فیصلہ بھی آ چکا ہے ہماری کوشش ہے کہ حقائق عوام تک پہنچائیں کہ کس طرح حکومت میں شامل افراد اور شوگر ملز مالکان عوام کو لوٹ رہے ہیں.

…تفصیل

پرل کانٹی نینٹل ھوٹل کراچی کے بر طرف ملازمین اور ان کے اجتماعی سودا کاری کے حق کی بحالی کےلئے کراچی پریس کلب پر مظاہرہ کیا گیا

 پرل کانٹی نینٹل ھوٹل کراچی ورکرز یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام ھوٹل انتظامیہ کے مزدور دشمن رویہ کے خلاف کراچی پریس کلب پر مورخہ 18اگست 2009 بروز منگل مظاہرہ کیا گیا، مظاہرے میں پی سی ھوٹل کے بر طرف ملازمین کے علاوہ مختلف ٹریڈ یونینز ، این جی اوز اور دیگر سول سوسائٹی کی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر یکجہتی کمیٹی کے کنوینرلطیف مغل نے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ یکجہتی کمیٹی نے گزشتہ کچھہ عرصہ سے اپنے احتجاجی پروگرام موخر کیے ھو ئے تھے کیونکہ محکمہ محنت سندھ کے افسران نے یقین دلایا تھا کہ ھوٹل انتظامیہ یونین کے ساتھہ مزاکرات کرے گی، لیکن ھوٹل انتظامیہ تمام مزدور قوانین کی خلاف ورزی کرتے ھوئےمزاکرات اور یونین کوتسلیم کرنےسے انکار کر رہی ھے اس لئےاب یکجہتی کمیٹی نے فیصلہ کیا ھے کہ وہ بھر پور احتجاج شروع کرے گی جس میں ھوٹل کہ اندر اور باہراحتجاجی مظاہرے، ریلیاں دھرنے ، جلوس اور اسلام آباد میں پارلیمنٹ ھاوس، سپریم کورٹ آف پاکستان اور پاکستان سروسز لمیٹڈ کے سامنے مظاہرے اور دھرناشامل ہیں۔کمیٹی کےسیکریٹری غلام محبوب نے کہا کہ بر طرف ملازمین نے پچھلے آٹھہ  سالوں سے اپنے حقوق کے حصول کےلئے پُر امن  مظاہرے اور دیگر احتجاجی طریقے اپنائے ھوئے ہیں۔لیکن ھوٹل انتظامیہ مسلسل لیبر قوانین کی خلاف ورزی کر رہی ہے اور ہماری قانونی یونین کو تسلیم کرنے سے انکاری ھے اب جبکہ ملک میں مزدور دوست حکومت کا قیام عمل میں آ چکا ہےتو ہم اُمید کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھہ بھی انصاف کیا جائے گا اور ہم صدرِ پاکستان محترم آصف علی زرداری صاحب سے اُمید کرتے ہیں  کہ محترمہ شہید بے نظیر بھٹو اور قائدِ جمہوریت شہید ذولفقار علی بھٹو کے نقشِ قدم پر چلتے ھوئےملک کے تمام محنت کشوں کو انصاف کی فراہی یقینی بنائیں گے اور پی سی ورکرز کو ان کا جائز حق دلانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے۔مظاہرے کہ شرکاء نے اپنے اس عزم کا اظہار کیا کہ پی سی کے برطرف ملازمین اور ان کے اجتماعی سودا کاری کے حق کی بحالی تک جدوجہد جاری رہے گی۔

ورکرز اتحاد یونی لیور ٹی فیکٹری خانیوال کا احتجاجی جلسہ

ورکرز اتحاد کی ریلی کے شرکاء یونی لیور فیکٹری خانیوال کے سامنے سے گذررھے ھیں

ورکرز اتحاد کی ریلی کے شرکاء یونی لیور فیکٹری خانیوال کے سامنے سے گذررھے ھیں

ورکرز اتحاد یونی لیور ٹی فیکٹری خانیوال کے زیرِ اہتمام احتجاجی جلسہ مورخہ5جولائی کو فیکٹری گیٹ کے سامنے واقع نیشنل فیڈریشن آف فوڈ ،بیوریج اینڈ ٹوبیکو ورکرز کے آفس میں منعقد کیا گیا جلسہ سے خانیوال سے تعلق

رکھنے والے مزدور رہنماوں کے علاوہ نیشنل فیڈریشن آف فوڈ بیوریج اینڈ ٹوبیکوورکرز  کے صدر نزر حسین شاہ، جنرل سیکریٹری خائستہ رحمان، نائب صدر محمد حسین بھٹی، سیکریٹری اطلاعات عاشق بھٹہ، آئی یو ایف کے   قمرالحسن، یونی لیورڈسمس ورکرز ایکشن کمیٹی رحیم یار خان کے سیکرٰٹری جہانزیب خٹک اور سید زمان نے خطاب کیا۔مقررین نی اپنے خطاب میں یونی لیورکی انتظامیہ کے مزدور دشمن رویہ کی سخت الفاظ میں مزمت کرتے ہوئے کہا کہ یونی لیور کی انتظامیہ ہر سال کروڑوں کا منافع کماتی ہے لیکن وہاں کام کرنے والے غیر مستقل ورکرز جو برسوں سے یونی لیور کے لئےکام کر رہے ہیں انہں مستقل نہیں کیا جاتا اور جب ان ورکرز نے اپنے حق کے لئے آواز بلند کی تو  یونی لیور کی انتظامیہ نےانتقامی کاروائیوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ یونی لیورٹی فیکٹری خانیوال میں کام کرنے والے محنت کشوں کو قانونی مراعات سے محروم رکھا ہوا ہے مزدوروں کی ملازمت کا تحفظ نہیں ہے ٹھیکیداری نظام کے تحت کام کرنے والے سینکڑوں محنت کشوں کی عزت ِ نفس کو مجروح کیا جاتا ہےٹھیکیدار کے غنڈے مزدوروں پر تشدد کرتے ھیں اور زرا زرا سی بات پر نوکری سے بر طرف کر دیا جاتا ہے۔ مقررین نے اس بات کا عزم کیا کہ اجب تک یونی لیور ٹی فیکٹری خانیوال میں سالوں سے کام کرنے والے محنت کشوں کو مستقل نہیں کیا جاتا اس وقت تک جدوجہد جاری رہے گی۔ ان رہنماوں نے یونی لیور کی انتظامیہ کو متنبہ کیا کہ اگر فوری طور پر برسوں سے کام کرنے والوں کو مستقل نہیں کیا گیا تو ملک بھر میں یونی لیور کے خلاف مظاہرے کیے جائیں گے، یونی لیور خانیوال کے محنت لشوں کی جدوجہد کو ملک بھر کے مزدوروں کی حمایت  حاصل ہے اور اس تحریک  میں تمام مزدور جدوجہد کرنے پر  تیار ہیں جلسہ کے بعد ایک احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی ، ریلی کے شرکاء نے یونی لیور خانیوال کے مزدوروں کی حمایت میں نعرے لگائے۔

مزدور خواتین کی یکجہتی کےدن کے موقع پر ورکشاپ:

p7030073آئی یو ایف اور وومن ورکرز فیڈریشن کے زیرِ اہتمام مورخہ 3 جولائی2009 مزدور خواتین کے دن پر ایک ورکشاپ ملتان میں منعقد کی گئی جس میں مختلف فوڈ فیکٹریز اور ریسٹورنٹ کے پیشہ سے تعلق رکھنے والی 33 خواتین نے شرکت کی ۔آئی یو ایف ہر تین ماہ بعد مزدور خواتین کے ساتھہ یکجہتی کا دن مناتا ہے جس میں مزدور خواتین کام سے متعلق تجربات ، مسائل اور اُن کا تدارک اور مستقبل کے پلان اور ضروریات پر تبادلہ خیال کرتیں ہیں۔ورکشاپ میں آئی یو ایف کے پروجیکٹ ایسوسی ایٹ محمد عثمان اور پروگرام آفیسر بشریٰ شاہ نے بھی شرکت کی جبکہ وومن ورکرز فیڈریشن کی مہک بٹ اور نیشنل فیڈریشن  آف فوڈ ، بیوریج اور ٹو بیکو ورکرز کے انفارمیشن سیکریٹری عاشق بھٹہ بھی اس ورکشاپ میں شریک تھے۔

…تفصیل

نیشنل فیڈریشن آف فوڈ، بیوریج اینڈ ٹوبیکو ورکرز کی گورننگ باڈی کا اجلاس

نیشنل فنیڈریشن آف فوڈ ، بیوریج اینڈ ٹوبیکو ورکرز کی گورننگ باڈی کا اجلاس مورخہ5جولائی 2009رزیر صدارت نذرحسین شاہ، خانیوال میں منعقد ھوا،اجلاس میں  فیڈریشن کی کورننگ باڈی کے اراکین کے علاوہ آ ئی یو ایف پاکستان آفس کے نمائندوں،  یونی لیور  ڈسمس ورکرز ایکشن کمیٹی رحیم یار خان اور یونی لیور ورکرز اتحاد کمیٹی خانیوال  کے نمائندوں نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ اجلاس کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے کیا گیا ۔تلاوت کے بعد فیڈریشن کے گزشتہ اجلاس کی کاروائی  کی منظوری لی گئ ، فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری خائستہ رحمان نے فیڈرییشن کی ایک سالہ کارکردگی کی رپورٹ پیش کرتے ھوئے بتایا کہ فیڈریشن نے اینگرو فوڈ سکھر(اولپرز)میں یونین سازی میں معاونت کی اوریونین کو رجسٹرڈ کرایا، یونین کی رجسٹریشن کے بعدچارٹر آف ڈیمانڈ کی تیاری میں تجاویز دیں اور چارٹر کے دوران ہر مرحلے میں اُنکی مدد کی اور وہاں پر ایک اچھی ڈیمانڈمنظور ھوئی ۔

…تفصیل

یوم مئی 2009 اور ایران میں مقید مزدور رھنماؤں کے لئے آزادی

100 سال کے زائد عرصے سے دنیا بھر کے مزدوراور ٹریڈ یونینز یکم مئی کو عالمی یوم مزدور کے حیثیت سے مناتے آرئے ھیں۔ جس میں مزدور بین الاقوامی سطح پر امن اور انصاف کے لئے اعادہ کرتے ہیں۔1890 سے اس دن کو نہ صرف عام مقامات بلکہ جیل اور قید خانوں میں بھی منایا جاتا ھے۔ اس لئے ابھی تک مختلف حکومتوں نے یکم مئی کو ھونے والے ان غیر سرکاری اجتماعات پر پابندی عائد کی ھے۔

ایران کا شمار بھی ان ہی ممالک میں ھوتا ھے جہان مزدوروں کو یکم مئی میں اجتماعات کی اجازت نہیں دی جاتی ھے۔اگر وھاں مزدور اس دن کو منانے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں ھراساں کیا جاتا ھے اور ان کو جیلوں میں بھیج دیا جاتا ھے۔ گذشتہ دو سالوں سے مزدوروں اور ان کے حقوق کے حمایت کنندگان کو یوم مئی منانے کی پاداش میںسر عام کوڑے مارنے کی سزائیں دی جارھی ھیں۔ ایران کے صوبے کردستان کے بیکر یونین کے رھنما محمد صالحی کو یوم مئی 2004 میں ایک عام ریلی منعقد کرنے کی پاداش میں ایک سال کے لئے جیل بھیج دیا گیا۔

حکمران حمایتی مزدور اور اسلامک لیبر کاؤنسل یکم مئی کو سالانہ تقریب منعقد کرتے ھیں۔ جہاں مزدور صرف حکومتی ایجنڈے کی بنیاد پر درپیش مسائل پر بات چیت کرتے ہیں۔ ایران میں ٹریڈ یونین کی آزادی ایک غیر قانونی امر ھے۔روشن خیال اور آزاد فکر مزدور رھنماؤں کو اس تقریب میں شرکت کی ممانعت ھے۔

سندھ کلب کے محنت کشوں پر ھونے والی زیادتیوں کا نوٹس لیا جائے۔ ملک غلام محبوب

پاکستان ھوٹلز،ریسٹیورانٹس، کلبس، ٹورزم، کیٹرنگ اینڈ الائیڈ ورکرزفیڈریشن کی جانب سے سندھ کلب کے محنت کشوں پر انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی زیادتیوں کے خلاف 26 مئی 2009 بروز منگل کو کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاھرہ کیا گیا۔ اس مظاھرے میں سندھ کلب کے محنت کشوں سمیت کراچی کے مختلف ھوٹلزاور کلب کے ورکرزکی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس احتجاجی مظاھرے کے شرکاہ نے سندھ کلب کے مزدوروں کی حمایت میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھائے رکھے تھے۔ پاکستان ھوٹلز،ریسٹیورانٹس، کلبس، ٹورزم، کیٹرنگ اینڈ الائیڈ ورکرزفیڈریشن کے جنرل سیکریٹری غلام محبوب نے خطاب کرتے ھوئے کہا کہ سندھ کلب میں مزدور یونین 1960 سے سے رجسٹرڈ ھے اور انتظامیہ یونین کے ساتھ چارٹر آف ڈیمانڈ پر بات بھی کرتی تھی۔ لیکن 1996 سے انتظامیہ نے یونین سے نہ صرف ڈیمانڈ پر بات کرنے سے انکار کیاھے بلکہ یونین کوبھی تسلیم نہیں کر رھا ھے۔1996 سےکلب کے محنت کشوں کو نہ تو قانون کے مظابق مراعات دی جارھی ھے اور نہ ھی ان کے اجرتوں میں اضافہ کیا جاررھاھے سندھ کلب میں لیبر قوانین کی خلاف ورزی کی جا رھی ھے۔ اگر کوئی ورکر اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرتا ھے تو اسے نوکری سے نکال دیا جاتا ھے۔ انتظامیہ نے یونین کی رجسٹریشن کے خلاف ایک کیس بھی دائر کیا ھوا ھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کلب ممبر شپ فیس کے مد میں اپنے ممبران سے لاکھوں روپئے وصول کرتی ھے۔لیکن کلب میں کام کرنے والے محنتکشوں کو ان کا قانونی اور جائز حق دینے سے انکاری ھے۔

…تفصیل