پرل کانٹی نینٹل ھوٹل کراچی ورکرز یونین کے نو منتخب عہدیداروں کی حلف برداری کی تقریب یکم فروری
2012 کو منعقد کی گئی۔تقریب کے مہمان خصوصی سندھ کے وزیر محنت امیر نواب تھے جبکہ دیگرمہمانوں میں کمشنر سندھ سوشل سیکورٹی، لیبر ڈائریکٹر سندھ، جوائنٹ لیبر ڈائریکٹر،یکجہتی کمیٹی کے اراکین اور پی سی یونین کے ممبران شامل تھے۔اس موقع پر مزدور رہنماوں نے اپنے اپنے خطاب میں یونین کے ممبران کی جدوجہد کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ھوئے
…تفصیل
نیشنل فیڈریشن آف فوڈ،بیوریجز اینڈ ٹوبیکو ورکرز کے زیر اہتمام مورخہ 29 دسمبر 2011 کو کراچی پریس کلب
پر نیسلے انڈونیشیاءاور کبیر والا کے محنت کشوں کے ساتھہ اظہار یکجہتی کے لیے مظاہرہ کیا گیا، فیڈریشن کے رہنمائوں نے اس موقع پر مطالبہ کیا کہ نیسلے انتظامیہ محنت کشوں کے ساتھہ روا رکھی جانے والی انتقامی کاروائیوں سے باز رہے اور کبیر والا فیکٹری سے نکالے گئے تمام ورکروں کو بحال کیا جائے اور کئی سالوں سے کام کرنے والے غیر مستقل مزدوروں کو مستقل کیا جائے، انڈونیشیاء میں نیسلے کے مزدوروں کی نمائندہ یونین کے ساتھہ مذاکرات کیے جائیں اور وہاں پر کام کرنے والے مزدوروں کا استحصال بند کیا جائے۔نیسلے کبیر والا میں کام کرنے والے سینکڑوں غیر مستقل کارکنان نے اس سال فروری میں انتظامیہ سے مستقل ملازمت کا مطالبہ کیا اور اس کے ساتھہ ہی اپنے حق کے لیے عدالت سے بھی رجوع کیا ، یہ کارکنان گذشتہ کئی سالوں سے ٹھکیداری نظام کے تحت کام کر رہے تھے ،
…تفصیل
نیسلے کبیر والاکے غیر مستقل محنت کشوں نے
جب اپنی مستقل ملازمت کے لئے جدو جہد شروع کی اس وقت سے کمپنی انتظامیہ نے ان کے خلاف انتقامی کاروائیاں شروع کر دی تھیں ۔ 50 سے زائد ورکر ز کو سیزن ختم ھونے کا بہانہ بنا کر برطرف کر دیا گیا جبکہ 33 کارکنا ن کو گیٹ پر مظاہرہ کرنے کے الزام میں برطرف کیاگیا۔ 8 ملازمین کو فیکٹری میں جھگڑا کرنے کا بہانہ بنا کر جبکہ 16 ورکرز کوھیومن ریسورس منیجر پر حملہ کرنے کا الزام لگا کر بر طرف کر دیا گیا ۔ ادارے میں موجود یونین کے صدر محمد حسین بھٹی نے ان ملازمین کی مدد کرنے کا عزم کیا تو انتظامیہ نے ان کے خلاف پہلے مقامی سطح پر پروپگینڈا کر کے پھر فیکٹری کے باہرچند افراد کی مدد سے مختلف مقدمات قائم کر کے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ۔
…تفصیل
یونین کی عارضی ملازمتوں کے خلاف جدو جہد
مورخہ 26 نومبر 2011 کو کوکاکولا لاھور پلانٹ پر 39 عارضی ملازمین نے مستقل ملازمتوں کی تقرریوں کے خطوط حاصل کر لئے ، مستقل ھونے الے ملازمین میں 2 خواتین بھی شامل ھیں ۔ یہ ملازمین عرصہ دراز سے کنٹریکٹ سسٹم کے تحت کام کر رھے تھے جنہیں کسی بھی قسم کی قانونی سہولیات حاصل نہیں تھیں، اس سے قبل اگست 2010 میں کو کا کولافیصل آباد اور رحیم یار خان میں 75ورکرز کو مستقل کرایا جا چکا ھے۔
…تفصیل

ورکشاپ کے شرکاء کا گروپ فو ٹو
مورخہ 21 سے 25 نومبر 2011 کو کراچی میں آئی یو ایف سے ملحقہ پاکستان ھوٹلز ، ریسٹورانٹس ، کلبس ، ٹورزم، کیٹرنگ اینڈ الائیڈ ورکرز کے لئے پانچ روزہ ایڈوانس لیڈر شپ ٹریننگ کا انعقاد کیا گیا اس ٹریننگ کا مقصد ٹریڈ یونین ممبران کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا،ٹریڈ یونین کے معاملات سے نبٹنے کے لیے ممبران میں شعور بیدار کرنے کے ساتھہ ساتھہ متبادل قیادت کی تیاری تھا تاکہ یہ کارکنان نہ صرف ٹریڈ یونین کے معاملات کو مؤثر طور پر حل کر سکیں بلکہ زندگی کے ہر شعبہ میں محنت کشوں کے مفادات کا تحفظ کر سکیں اور اس کے ساتھہ ساتھہ متبادل نوجوان قیادت کی تربیت ھوتی رھے۔
…تفصیل
آئی یو ایف کی ہمیشہ سے یہ کوشش رھی ھے
کہ اس سے ملحقہ ٹریڈ یونینز اپنے معاملات و مسائل سے آگاہ ہوں اور اس سلسلے میں ان کی تعلیم و تربیت کی جائے تاکہ یہ اپنے معاملات میں خود مختاری کی جانب پیش رفت کریں اورٹریڈ یونین کے امورکی تربیت ممبران کی سطح تک کی جائے یہ اس صورت میں ممکن کہ جب ان یونینز میں چند ایسے ٹیوٹر مودجود ھو ں جو کہ اپنی یونین کے تمام ممبران کی تربیت عصری تقاضوں کے مطابق کر سکیں ۔ٹریڈ یونینزاس وقت کامیاب ھو سکتی ہیں کہ جب اس کے ہر ممبر کونہ صرف اپنے حقوق و فرائض سے آگاہی ھو بلکہ انھیں ٹریڈ یونینز کے مسائل اور انتظامیہ کے ہتھکنڈے سے نمٹنے کی حکمت عملی طے کرنی آتی ھو۔ اس سلسلے میں آئی یو ایف کی جانب سے وقتا وقتا تعلیمی ورکشاپ کا انعقاد کیا جا تا رھا ھے ۔
…تفصیل
مورخہ ۱۳ نومبر ۲۰۱۱ کو فیڈریشن کی گورننگ باڈی میٹنگ نے
نیسلے کبیر والا پاکستان اور نیسلے انڈونیشیا کے محنت کشوں سے اظہار یکجہتی کرتے ھوئے اس کمپین میں بھر پور شرکت کی تو ثیق کی۔ فیڈریشن کی گورننگ باڈی نے ملک بھر میں احتجاجی پروگرام منعقد کرنے کی منظوری دی جس کے تحت تمام شہروں میں جلسے، جلوس،مظاھرے اور پریس کانفرنسز منعقد کی جائیں گی۔گورننگ باڈی نے نیسلے پنجانگ،انڈونیشیاء میںدرجنون کارکنوں کیغیر قانونی بر طرفی پر شدید تشویش کا
…تفصیل
نیسلے کبیر والا فیکٹری انتظامیہ، ایسی فیکٹری جو کہ فن کا نمونہ ھے مگر اس کی انتظامیہ جاگیردارانہ سوچ کی
حامل ھے اور کارکنان کے حقوق کی جدوجہد کو جرائم کی طرف دھکیل رھی ھے۔
یہاں دو سو سے زائد محنت کشوں کو بر طرف کیا جا چکا ھے، احتجاجی کارکنان پر حملے کرائے گئےاور 80 سے زائد ٹھکیدار کے ملازمین ضمانت پر رہا ھیں اور مختلف عدالتوں میں اپنے حقوق کا دفاع کرنے کی پاداش میں کیس بھگت رہے ھیں جبکہ یونین کے صدر محمد حسین بھٹی کی بھی یہی صورتحال ھے۔
…تفصیل

آئی یو ایف ایشیاء پیسفک خواتین کانفرنس کے شرکاء کا گروپ فوٹو
آئی یو ایف ایشیاء پیسفک کے زیر اہتمام مورخہ 17 اکتوبر 20011 کو انڈونیشیاء کے شہر بالی میں خواتین ورکرز کانفرنس منعقد کی گئی ، کانفرنس میں انڈیا ،پاکستان، تھائی لینڈ، فلپائن، کوریا، کمبوڈیا، انڈونیشیائ، ملائشیائ، جا پان ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے خواتین رہنماؤں نے شرکت کی۔ پاکستان سے ایمپلائز فیڈریشن آف کوکا کولا بیوریجز کی عقیلہ پرویز اور نیشنل فیڈریشن آففوڈ،بیوریجز اینڈ ٹوبیکو ورکرز کی راحت عبدالحق نے شرکت کی۔کانفرنس کی صدارت آئی یو ایف خواتین کمیٹی کی چیر پرسن نہائے ناکانو نی کی۔
افتتاحی اجلاس سے انڈونیشیاء کی ھوٹل ورکرز فیڈریشن کی نمائندہ نے تمام خواتین کو خوش آمدید کہا، انہوں نے کہا کہ بالی ایک سیاحتی مر کز ھے اور مجھے امید ھے کہ آپ یہاں اپنے قیام سے لطف اندوز ھوں گی۔آئی یو ایف ایشیاء پیسفک کے علا قائی سیکریٹری ما وے پن نے اپنے خطاب میں کہا کہ ٹریڈ یونین تحریک میں خواتین کی شرکت بہت اہم ھے، دنیا بھر میں خواتین کی تعداد نصف ھے اور کام کی دنیا میں خواتین اہم کردار ادا کر رھی ھیں تو پھر کیوں نہیں وہ ٹریڈ یونینز میں رہنمائی کا کردار ادا کر سکتیں، اسی لیے آئی یو ایف نے ایک پالیسی وضح کی ھے کہ ہمارے ھر پروگرام میں چالیس فیصد خواتین کی شرکت کو لازمی بنائیں۔ بہت سے ملکوں میں یہ شاید آ سان نہ ھو مگر ھماری کوشش ھے کہ ھم اس ھدف کو حاصل کر نے کی بھرپور کوشش کریں ۔کانفرنس کے دوران انڈونیشیاء سے ھیما سری اور کوریا سے آک سون نے آئی یو ایف کے وومن پراجیکٹ کی سر گرمیوں کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پیش کی، بحث میں حصہ لیتے ھوئے پاکستانی نمائندوں نے بتایا کہ ھمارے ملک میں خواتین کارکنان کی تعداد بہت کم ھے اور
…تفصیل
آئی یو ایف ایشیاء پیسیفک کی علاقائی مندوبین کانفرنس مورخہ 18 تا 20 اکتوبر انڈونیشیاء کے شہر بالی میں منعقد ھوئی ۔

آئی یو ایف ایشیاء پیسفک کی ریجنل کانفرنس میں شریک پاکستانی مندوب
جس میں 14 ممالک سے 49 یونینز کے 65 مندوبین نے شرکت کی مندوبین کے علاوہ 55 مبصرین بھی اس کانفرنس میں شریک تھے ۔ کانفرنس میں پاکستان سے نزر حسین شاہ، غلام محبوب ، محمد سفیر مغل ، عقیلہ پرویز ، راحت عبدالحق اور قمر الحسن نے شرکت کی۔ کانفرنس کا افتتاح بالی کے گورنر نے کیا جبکہ مہمانو ں کو انڈونیشیاء کی ھوٹل ورکرز فیڈریشن کے صدر نے خوش آمدید کہا۔ کانفرنس کی صدارت آئی یو ایف کے ایشیاء پیسیفک کے
صدر چارلی نے کی جنکا تعلق آسٹریلیاء سے ھے ۔
کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے آئی یو ایف کے جنرل سیکریٹری ران آسوالڈ اور ریجنل سیکریٹری ماوے پن نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس میں علاقائی سیکریٹری ماوے پن نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ھوئے خاص طور پر پاکستان ، انڈیا اور انڈونیشیاء کا تذکرہ کیا جہاں گذشتہ سالوں میں اھم کامیابیاں حاصل ھوئی ھیں ۔ کانفرنس کے شرکاء نے پاکستان میں آئی یو ایف کی کامیابیوں پر خراج تحسین پیش کیا، جہاں یونی لیور رحیم یار خان اور خانیوال ، کوکا کولا کراچی ،ملتان ، گجرانوالہ میں محنت کشوں کو مستقل کرایا گیا اور پرل کانٹی نینٹل ھوٹل کے محنت کشوں نےدسویں سال میں بھی اپنی جدوجہد جاری رکھتے ھوئے طویل ترین جدو جہد کا ریکارڈ قائم کیا ھے۔
…تفصیل